Business
امریکی بازار حصص میں ٹیکنالوجی اسٹاکس کی گراوٹ اور وال اسٹریٹ کی صورتحال
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور بانڈ یلڈز میں اضافے کے باعث وال اسٹریٹ پر شدید دباؤ دیکھا گیا ہے۔ ٹیکنالوجی اور سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کے حصص میں نمایاں کمی کے بعد سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اختیار کر لیا ہے۔
وال اسٹریٹ پر بدھ کے روز شدید دباؤ دیکھا گیا جس کے نتیجے میں اہم انڈیکسز میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ اس مندی کی بنیادی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی ہے، جس نے سرمایہ کاروں میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔ اس غیر یقینی صورتحال کے باعث سرکاری بانڈز کی پیداوار یعنی بانڈ یلڈز میں اچانک اضافہ ہوا ہے، جس نے براہ راست اسٹاک مارکیٹ کے مزاج کو متاثر کیا ہے۔
سب سے زیادہ اثر ٹیکنالوجی کے شعبے پر پڑا ہے، جہاں سرمایہ کاروں نے اپنے حصص فروخت کرنے کو ترجیح دی۔ خاص طور پر سیمی کنڈکٹر بنانے والی بڑی کمپنیوں کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے، جو گزشتہ کئی عرصے سے مارکیٹ میں ترقی کا انجن سمجھی جا رہی تھیں۔ ٹیکنالوجی کے علاوہ دیگر گروتھ اسٹاکس بھی مندی کی زد میں رہے، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل دکھائی دیا۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بانڈ یلڈز میں اضافہ جب بھی ہوتا ہے، یہ ٹیکنالوجی اسٹاکس کے لیے منفی اشارہ ہوتا ہے کیونکہ قرض لینے کی لاگت بڑھ جاتی ہے، جس سے مستقبل کی منافع بخشی متاثر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔
سرمایہ کار اب محتاط انداز اپنا رہے ہیں اور اپنے پورٹ فولیوز کو محفوظ اثاثوں کی جانب منتقل کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جب تک مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال میں بہتری یا استحکام نہیں آتا، تب تک وال اسٹریٹ پر اتار چڑھاؤ کا یہ سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔ مارکیٹ کے شرکاء اب فیڈرل ریزرو کی آئندہ پالیسیوں اور معاشی اعداد و شمار پر نظریں جمائے ہوئے ہیں تاکہ مستقبل کی حکمت عملی تیار کی جا سکے۔ فی الحال مارکیٹ میں خوف کا عنصر غالب ہے اور ٹیکنالوجی سیکٹر میں فروخت کا یہ عمل مختصر مدت کے لیے مزید دباؤ کا باعث بن سکتا ہے۔