Technology
تعلیمی اداروں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال اور واٹر مارکنگ کی افادیت
آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے طلبا کی جانب سے نقل کے بڑھتے ہوئے رحجان نے تعلیمی ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اب ماہرین اے آئی واٹر مارکنگ کو ایک ایسی ٹیکنالوجی کے طور پر دیکھ رہے ہیں جو تعلیمی شفافیت بحال کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
دنیا بھر کے تعلیمی اداروں میں اس وقت مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے استعمال نے اساتذہ اور انتظامیہ کو ایک نئی پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ خاص طور پر طلباء کی جانب سے اسائنمنٹس اور امتحانات میں چیٹ جی پی ٹی جیسے ٹولز کے استعمال سے تعلیمی دیانت داری پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ بہت سے لیکچرارز نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ٹیکنالوجی پر حد سے زیادہ انحصار طلباء کی تخلیقی صلاحیتوں کو متاثر کر رہا ہے، جسے کچھ ماہرین تعلیمی میدان میں ایک سنگین بحران قرار دے رہے ہیں۔
اس مسئلے کے حل کے لیے اب 'اے آئی واٹر مارکنگ' (AI Watermarking) کا تصور تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ واٹر مارکنگ ایک ایسی تکنیک ہے جس کے ذریعے اے آئی سے تیار کردہ مواد میں ایک خفیہ کوڈ یا ڈیجیٹل نشان شامل کر دیا جاتا ہے، جسے عام آنکھ نہیں دیکھ سکتی لیکن جدید سافٹ ویئر اسے باآسانی پہچان سکتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کا مقصد یہ ہے کہ اساتذہ یہ تعین کر سکیں کہ آیا کوئی مخصوص آرٹیکل یا اسائنمنٹ کسی طالب علم نے خود لکھی ہے یا اسے مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔
تاہم، ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ صرف واٹر مارکنگ ہی مکمل حل نہیں ہے۔ جہاں ایک طرف یہ ٹیکنالوجی نقل کو پکڑنے میں مددگار ثابت ہوگی، وہیں دوسری طرف طلباء اور ہیکرز بھی ایسے طریقے تلاش کر سکتے ہیں جن سے اس واٹر مارک کو ہٹایا یا تبدیل کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، تعلیمی ماہرین کا ماننا ہے کہ صرف ٹیکنالوجی کے ذریعے طلباء کی نگرانی کرنے کے بجائے تعلیمی نظام میں ایسے اصلاحات کی ضرورت ہے جو طلباء کو تنقیدی سوچ اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی ترغیب دیں۔
مستقبل قریب میں اے آئی واٹر مارکنگ اور اسے پکڑنے والے سافٹ ویئر کے درمیان ایک جاری رہنے والی دوڑ متوقع ہے۔ تعلیمی اداروں کو اب اپنی پالیسیوں کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہوگا تاکہ ٹیکنالوجی کے فوائد حاصل کیے جا سکیں اور اس کے منفی استعمال یعنی نقل کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا تعلیمی ادارے اس تکنیکی چیلنج سے نمٹنے میں کتنے کامیاب ہوتے ہیں اور کیا یہ اقدام واقعی تعلیمی شفافیت بحال کر پائے گا۔