World
عراق کا سعودی عرب اور امریکہ کے خلاف سخت موقف اور دورہ منسوخ
عراق نے حالیہ حملوں کو ملک کی خودمختاری کی سنگین اور صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ اس احتجاج کے طور پر وزیراعظم علی الزیدی نے اپنے پہلے سرکاری دورے کو منسوخ کر دیا ہے۔
عراق کی حکومت نے حالیہ عسکری کارروائیوں اور حملوں کے بعد انتہائی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے انہیں ملک کی خودمختاری اور ملکی سلامتی کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ حملے علاقائی کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن رہے ہیں جنہیں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت نے اس عسکری مداخلت پر گہرے غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور بین الاقوامی برادری سے اس معاملے پر سنجیدہ نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کشیدہ صورتحال کے پیش نظر، عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اپنے طے شدہ شیڈول میں ایک اہم تبدیلی کرتے ہوئے سعودی عرب کا اپنا پہلا سرکاری دورہ منسوخ کر دیا ہے۔ اس فیصلے کو سفارتی سطح پر انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے دونوں برادر ممالک کے درمیان تعلقات میں تناؤ کا واضح اشارہ ملتا ہے۔ وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ملکی خودمختاری اور وقار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام خطے میں بدلتی ہوئی سیاسی حرکیات اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کا نتیجہ ہے جس سے دو طرفہ تعلقات پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ عراقی عوام اور سیاسی حلقوں نے بھی حکومت کے اس فیصلے کو سراہا ہے اور ملک کے دفاع کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس سفارتی بحران کے حل کے لیے مختلف ممالک کی جانب سے مصالحتی کوششیں متوقع ہیں تاکہ خطے کو مزید کسی بڑے بحران سے بچایا جا سکے، تاہم فی الحال صورتحال انتہائی حساس بنی ہوئی ہے۔