LIVE
Loading Breaking News...

ٹیلی فون کی تاریخ: 1901 کے پے-ایز-یو-گو فون

News Image
سال 1901 میں شکاگو ٹیلی فون کمپنی نے گھروں میں استعمال ہونے والے سکہ دار فون متعارف کروائے تھے۔ یہ منفرد ٹیکنالوجی عام شہریوں کو سستے داموں ٹیلی فون کی سہولت فراہم کرنے کے لیے شروع کی گئی تھی۔
دور جدید میں جہاں ہم اپنے اسمارٹ فونز پر بیلنس ختم ہونے پر فوری ریچارج کروا لیتے ہیں، وہاں ٹیلی فون کی تاریخ میں اس سہولت کا تصور بیسویں صدی کے آغاز میں ہی پیش کر دیا گیا تھا۔ سن 1901 میں شکاگو ٹیلی فون کمپنی نے ایک تاریخی اشتہار جاری کیا جس میں 'نکل اِن دی سلاٹ' (Nickel-in-the-slot) فونز کی تشہیر کی گئی۔ اس ٹیکنالوجی کا بنیادی مقصد عام شہریوں تک ٹیلی فون کی پہنچ کو ممکن بنانا تھا، تاکہ ہر رہائشی کسی بھاری ماہانہ فیس کے بغیر ٹیلی فون سروس استعمال کر سکے۔ یہ سہولت ان لوگوں کے لیے ایک انقلابی قدم تھی جو مستقل کنکشن خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔ اس نظام کے تحت صارفین کو فون کال کرنے کے لیے سلاٹ میں پانچ سینٹ کا سکہ ڈالنا پڑتا تھا۔ اگر آج کے دور کے اعتبار سے اس قیمت کا موازنہ کیا جائے تو یہ رقم تقریباً دو امریکی ڈالر کے برابر بنتی ہے۔ یہ ایک قسم کا 'پے-ایز-یو-گو' (Pay-as-you-go) ماڈل تھا جس نے مواصلات کی دنیا میں نئی راہیں ہموار کیں۔ اس زمانے میں یہ سہولت نہ صرف تجارتی مراکز کے لیے تھی بلکہ کمپنی نے اسے عام گھروں تک پہنچانے کا عزم بھی کیا تھا۔ شکاگو کے رہائشیوں نے اس اقدام کو سراہا، کیونکہ اس نے ٹیلی فون کو ایک لگژری آئٹم سے نکال کر ایک عوامی سہولت بنا دیا تھا۔ مواصلاتی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہی وہ ابتدائی ماڈلز تھے جنہوں نے آگے چل کر پبلک ٹیلی فون بوتھس اور بعد ازاں پری پیڈ موبائل سروسز کی بنیاد رکھی۔ اگرچہ اس وقت یہ ٹیکنالوجی میکانکی طور پر سادہ تھی، لیکن اس کا تصور انتہائی جدید تھا۔ سکہ ڈالنے کے بعد ہی کال کرنے کی اجازت ملنا، ایک ایسا سسٹم تھا جس نے کمپنی کو ریونیو کے حصول کا ایک نیا طریقہ فراہم کیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ طریقہ کار دنیا بھر میں مقبول ہوا اور ٹیلی فون کے استعمال کے رحجان کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا۔ آج جب ہم ٹیلی کام سیکٹر میں ترقی کی بات کرتے ہیں، تو ہمیں 1901 کے اس دور کی یاد آتی ہے جب شکاگو ٹیلی فون کمپنی نے محدود وسائل کے ساتھ ایک ایسا نیٹ ورک تشکیل دیا جو عوام دوست تھا۔ اگرچہ آج ہم ڈیجیٹل ادائیگیوں کے دور میں جی رہے ہیں، مگر سکہ ڈال کر رابطہ قائم کرنے کا وہ پرانا انداز آج بھی مواصلاتی تاریخ کا ایک دلچسپ اور اہم باب ہے۔ یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ کسی بھی ٹیکنالوجی کی کامیابی کا دارومدار اس کی رسائی اور صارف کے لیے آسانی پر ہوتا ہے۔