LIVE
Loading Breaking News...

شان بیکر اور سمانتھا کوان نئی اکیڈمی کمیٹی کے سربراہ مقرر

News Image
اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز نے شان بیکر اور سمانتھا کوان کو نئی قائم کردہ مارکی تھیٹر کمیٹی کے شریک چیئرمین کے طور پر نامزد کیا ہے۔ یہ کمیٹی فلمی صنعت میں بہترین سینما گھروں کے انتخاب اور ان کی تنصیب کے لیے سفارشات مرتب کرے گی۔
اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ معروف فلم ساز شان بیکر اور ان کی پارٹنر پروڈیوسر سمانتھا کوان کو نئی تشکیل دی گئی 'مارکی تھیٹر کمیٹی' کا شریک چیئرمین مقرر کر دیا گیا ہے۔ اس تقرری کا مقصد اکیڈمی کے زیر اہتمام ہونے والے مختلف پروگراموں اور فلموں کی نمائش کے لیے تھیٹرز کے انتخاب کے عمل کو مزید شفاف اور مؤثر بنانا ہے۔ یہ کمیٹی فلمی دنیا کے معیار کے مطابق بہترین سینما گھروں کی نشاندہی کرے گی اور اکیڈمی کو ان مقامات کے بارے میں حتمی سفارشات پیش کرے گی۔ مارکی تھیٹر کمیٹی کا بنیادی کام ان درخواستوں اور تجاویز کا جائزہ لینا ہے جو اکیڈمی کے نیٹ ورک میں شامل ہونے کے لیے موصول ہوتی ہیں۔ شان بیکر، جو اپنی منفرد فلم سازی کے لیے جانے جاتے ہیں، اور سمانتھا کوان، جو ایک تجربہ کار پروڈیوسر کے طور پر صنعت میں خدمات انجام دے رہی ہیں، اس کمیٹی کی سربراہی سنبھالنے کے لیے بہترین انتخاب سمجھے جا رہے ہیں۔ ان کی قیادت میں یہ کمیٹی نہ صرف تھیٹرز کے بنیادی ڈھانچے کا جائزہ لے گی بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنائے گی کہ تکنیکی اعتبار سے ہر مقام اکیڈمی کے سخت معیارات پر پورا اترے۔ فلمی حلقوں میں اس تقرری کو انتہائی مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے کیونکہ شان بیکر اور سمانتھا کوان کی جوڑی ماضی میں بھی تخلیقی پروجیکٹس میں بہترین نتائج دے چکی ہے۔ اکیڈمی کا ماننا ہے کہ تھیٹر کمیٹی کے لیے ان کا تجربہ نئے سینما گھروں کی شمولیت میں معاون ثابت ہوگا جس سے فلم بینوں کو بہتر تجربہ حاصل ہو سکے گا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ نئی کمیٹی جلد ہی اپنے کام کا آغاز کرے گی اور اکیڈمی کے زیر انتظام تھیٹروں کے نیٹ ورک کو وسعت دینے کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔ آخر میں، یہ اقدام اکیڈمی کی اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ فلمی صنعت کے معیار کو عالمی سطح پر برقرار رکھے۔ مارکی تھیٹر کمیٹی کی تشکیل کے بعد سے امید کی جا رہی ہے کہ فلموں کی نمائش کے لیے جدید ترین اور ٹیکنالوجی سے لیس سینما ہالز کو ترجیح دی جائے گی، جس سے نہ صرف ہدایت کاروں کا کام بہتر انداز میں پیش ہوگا بلکہ فلم سازی کے شعبے کو بھی نئی بلندیوں تک پہنچنے میں مدد ملے گی۔