Entertainment
بلی جوئیل کا گیت وی ڈڈنٹ سٹارٹ دی فائر اور اس کے پس پردہ تاریخی واقعات
مشہور امریکی گلوکار بلی جوئیل کے 1989 کے ہٹ گیت 'وی ڈڈنٹ سٹارٹ دی فائر' نے موسیقی کی دنیا میں ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ اس گیت میں بیسویں صدی کے اہم تاریخی اور سیاسی واقعات کو انتہائی تخلیقی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
امریکی موسیقی کی تاریخ میں کچھ گیت ایسے ہوتے ہیں جو صرف دھن کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے اندر چھپے گہرے مفہوم اور تاریخی حوالوں کی وجہ سے امر ہو جاتے ہیں۔ بلی جوئیل کا 1989 میں ریلیز ہونے والا سپر ہٹ گیت 'وی ڈڈنٹ سٹارٹ دی فائر' (We Didn't Start the Fire) بلاشبہ اسی زمرے میں آتا ہے۔ یہ گیت نہ صرف یو کے اور یو ایس کے چارٹس پر سرفہرست رہا بلکہ آج بھی اسے موسیقی کی دنیا میں ایک انتہائی تخلیقی اور منفرد شاہکار تسلیم کیا جاتا ہے۔ اگرچہ وقت کے ساتھ ساتھ اس گیت پر تنقید بھی کی گئی، لیکن اس کی اہمیت آج بھی برقرار ہے۔ اس گیت کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ بلی جوئیل نے اس میں بیسویں صدی کے اہم تاریخی، سیاسی، اور سماجی واقعات کو ایک تیز رفتار ترانہ نما انداز میں سمو دیا ہے۔
اس گیت کے ہر مصرعے میں ایک نیا تاریخی حوالہ ملتا ہے، جس میں دوسری جنگ عظیم سے لے کر سرد جنگ، خلائی دوڑ، ثقافتی انقلابات اور نامور شخصیات کا تذکرہ شامل ہے۔ بلی جوئیل کا مقصد یہ بتانا تھا کہ دنیا میں رونما ہونے والے واقعات ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہیں، جن کے لیے کوئی ایک فرد یا نسل تنہا ذمہ دار نہیں ہے۔ یہ گیت ایک طرح کا تاریخی دستاویز ہے جو نوجوان نسل کو ان واقعات سے متعارف کروانے کا کام بھی کرتی ہے جو ان کے پیدائش سے قبل یا ان کے بچپن میں پیش آئے۔ اس کی کمپوزیشن اور بولوں کی روانی اتنی تیز اور جاندار ہے کہ سننے والا خود کو تاریخ کے ایک تیز رفتار سفر پر محسوس کرتا ہے۔
اگرچہ کئی ناقدین نے اس گیت کو محض واقعات کی فہرست قرار دے کر تنقید کا نشانہ بنایا، لیکن موسیقی کے ماہرین اسے بلی جوئیل کی ایک عظیم کاوش قرار دیتے ہیں۔ اس گیت کی کامیابی کا راز اس میں موجود وہ جذباتی وابستگی ہے جو سامعین کو اپنے عہد کے اہم موڑ کی یاد دلاتی ہے۔ آج کے دور میں، جب معلومات کی بہتات ہے، یہ گیت ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تاریخ کا پہیہ کبھی نہیں رکتا اور ہم سب اس کا حصہ ہیں۔ بلی جوئیل نے اس گیت کے ذریعے ثابت کیا کہ پاپ میوزک کے ذریعے بھی مشکل ترین تاریخی حقائق کو عوام تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ آج بھی یہ گیت دنیا بھر میں بڑے شوق سے سنا جاتا ہے اور نئی نسل کے لیے ایک تعلیمی اثاثے کی حیثیت رکھتا ہے۔