World
شام میں اسرائیلی فضائی حملے، ترکی اور عالمی برادری کا ردعمل
ترکی نے شام میں اپنے فوجی اڈے پر اسرائیلی فضائی حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ دوسری جانب عالمی طاقتوں نے بھی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ترکی نے شام میں موجود اپنے ایک فوجی اڈے پر اسرائیل کی جانب سے کیے گئے فضائی حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انقرہ نے ان حملوں کو بلاجواز اور ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے دعوے سراسر بے بنیاد ہیں۔ ترک حکومت کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی بین الاقوامی قوانین اور خود مختاری کی صریح خلاف ورزی ہے جس سے خطے میں پہلے سے موجود تناؤ میں مزید اضافہ ہوگا۔ ترکی کے اعلیٰ حکام نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی فوجی تنصیبات کی حفاظت کے لیے تمام تر ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں اور اسرائیل کو اس طرح کی اشتعال انگیزی سے باز رہنا چاہیے۔
دوسری جانب اسرائیلی حکام نے اپنے دفاع میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ کارروائی ایک انتباہی اقدام تھا، جس کا مقصد شام میں ترکی کی بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں کو روکنا تھا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اسے بارہا تحفظات تھے جنہیں نظر انداز کیا گیا، اسی لیے اس نے فضائی کارروائی کا راستہ چنا۔ تاہم، اسرائیل کے اس مؤقف کو عالمی سطح پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ واقعہ مشرق وسطیٰ کی پیچیدہ جغرافیائی سیاست میں ایک نئے محاذ کو کھولنے کے مترادف ہے جس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں نے بھی اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ حملہ خطے میں بلاضرورت کشیدگی بڑھانے کا باعث بنے گا، جس سے سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ واشنگٹن نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں۔ پاکستان نے بھی ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی خود مختار ملک کی سرزمین پر اس طرح کی فوجی کارروائیاں امن و امان کے لیے خطرہ ہیں۔
مستقبل کے حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے اس اقدام سے ترکی اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات میں مزید بگاڑ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی اب براہ راست فوجی تصادم کی طرف بڑھ رہی ہے، جس سے شام کی داخلی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ عالمی برادری اب اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر اسرائیل نے اپنی جارحانہ پالیسی ترک نہ کی تو حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔