LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کینیڈا تجارتی معاہدہ اور سٹیل ایلومینیم ٹیرف کی تفصیلات

News Image
امریکہ اور کینیڈا کے درمیان جاری تجارتی مذاکرات میں سٹیل اور ایلومینیم پر محصولات میں کمی کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے نئی ٹیرف پالیسی میں عارضی وقفے کے بعد دونوں ممالک معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
امریکہ اور کینیڈا کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی میں اس وقت ایک اہم موڑ آیا ہے جب دونوں ممالک سٹیل اور ایلومینیم پر عائد محصولات میں کمی کے حوالے سے ایک نئے معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ امریکی صدر کی جانب سے کینیڈا پر نئی ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے میں تین دن کا عارضی وقفہ دیا گیا ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات کو حتمی شکل دینا ہے۔ اس پیش رفت کو شمالی امریکہ کی معیشت کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ دونوں ممالک کا تجارتی حجم اربوں ڈالر پر محیط ہے۔ کینیڈین حکومت کی جانب سے جاری کردہ حالیہ بیانات کے مطابق، وزیراعظم اور ان کی ٹیم امریکی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ کینیڈا کی برآمدات کو نئے محصولات کی زد میں آنے سے بچایا جا سکے۔ مذاکرات کا مرکزی نقطہ سٹیل اور ایلومینیم پر عائد اضافی ٹیکسوں کو ختم کرنا یا ان میں نمایاں کمی کرنا ہے، جس سے نہ صرف کینیڈین صنعت کاروں کو ریلیف ملے گا بلکہ امریکی صارفین کے لیے بھی اشیاء کی قیمتوں میں استحکام آئے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تجارتی سمجھوتہ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری تجارتی تناؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اس مذاکراتی عمل کے دوران کینیڈا کی جانب سے کی اسٹون ایکس ایل (Keystone XL) پائپ لائن منصوبے کو بحال کرنے کے اشارے بھی سامنے آئے ہیں، جسے امریکی انتظامیہ کی جانب سے مثبت قرار دیا جا رہا ہے۔ پائپ لائن منصوبہ، جو توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔ اگرچہ ابھی تک کسی حتمی معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے، تاہم دونوں اطراف سے آنے والے بیانات میں نرمی اور مفاہمت کا عنصر نمایاں ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تجارتی جنگ کے خدشات جلد ختم ہو سکتے ہیں۔ مستقبل میں یہ معاہدہ نہ صرف دو طرفہ تجارت کو فروغ دے گا بلکہ اس سے شمالی امریکہ کے تجارتی بلاک کے استحکام میں بھی اضافہ ہوگا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر سٹیل اور ایلومینیم پر محصولات کے مسئلے کو پرامن طریقے سے حل کر لیا جاتا ہے تو یہ دونوں ممالک کے درمیان دیگر شعبوں میں تعاون کے دروازے بھی کھولے گا۔ فی الحال عالمی منڈیوں کی نظریں واشنگٹن اور اوٹاوا کے درمیان ہونے والے ان اہم مذاکرات پر مرکوز ہیں جن کا حتمی نتیجہ آنے والے چند دنوں میں متوقع ہے۔