LIVE
Loading Breaking News...

محمود خان اچکزئی کی قوم پرستانہ سیاست پر ایک تنقیدی نظر

News Image
تجزیہ: جہانزیب بلوچ محمود خان اچکزئی کی قوم پرستانہ سیاست پر ایک تنقیدی نظر تجزیہ نگار جہانزیب بلوچ کا کہنا ہے کہ محمود خان اچکزئی کی پشتون قوم پرستانہ سیاست اپنی سابقہ عوامی مقبولیت کھو چکی ہے۔ ان کے مطابق، وہ اپنی سیاسی حیثیت کو دوبارہ مستحکم کرنے کے لیے بلوچ اور پشتون اقوام کے درمیان اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جہانزیب بلوچ کے مطابق، اگر کسی سیاست کی بنیاد عوام کے حقیقی مسائل کے بجائے نسلی تقسیم، اشتعال انگیزی اور باہمی بداعتمادی پر رکھی جائے تو اس کا نقصان صرف دونوں اقوام ہی نہیں بلکہ پورے خطے کو پہنچتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بلوچ اور پشتون صدیوں سے ایک دوسرے کے ہمسایہ اور باہمی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں، اس لیے ان کے درمیان نفرت یا تصادم پیدا کرنے کی ہر کوشش قابلِ مذمت ہونی چاہیے۔ ان کے بقول، سیاسی قیادت کا اصل امتحان عوام کو تقسیم کرنا نہیں بلکہ انہیں متحد کرنا، مسائل کا حل پیش کرنا اور امن، انصاف اور ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔ اگر کوئی رہنما اپنی کمزور پڑتی ہوئی سیاست کو برقرار رکھنے کے لیے قومی اختلافات کو ہوا دیتا ہے تو اسے جمہوری سیاست کے بجائے مفاداتی سیاست کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ جہانزیب بلوچ نے مزید کہا کہ ماضی میں بلوچ اور پشتون اقوام کے درمیان کشیدگی کے نتیجے میں دونوں جانب جانی نقصان ہوا، جبکہ حاصل صرف نفرت اور اختلافات تھے۔ ان کے مطابق، دونوں اقوام کو باہمی احترام، اتحاد اور امن کو ترجیح دینی چاہیے تاکہ خطے میں استحکام اور ترقی کو فروغ مل سکے۔