World
ایران کی امریکہ کو وارننگ: جوہری ہتھیار کے جواب میں جوابی کارروائی کی دھمکی
ایک ایرانی قانون ساز نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے جوہری ہتھیاروں کا استعمال کیا تو تہران بھی اس کا بھرپور اور اسی نوعیت کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ یہ بیان دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی اور علاقائی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
ایرانی پارلیمان کے ایک اہم رکن نے حال ہی میں ایک سخت بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکہ کی جانب سے کسی بھی مرحلے پر جوہری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا، تو تہران اس کا بھرپور اور اسی نوعیت کا جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال انتہائی کشیدہ ہے اور عالمی طاقتوں کے درمیان عسکری امور پر بیان بازی میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ قانون ساز کا یہ مؤقف ایران کی دفاعی پالیسی کے اس پہلو کو اجاگر کرتا ہے جس میں کسی بھی جارحیت کو برداشت نہ کرنے کا اعادہ کیا گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایرانی رکن پارلیمنٹ کا یہ بیان تہران کی دفاعی حکمت عملی میں تبدیلی اور اپنی عسکری صلاحیتوں کو ظاہر کرنے کی ایک کوشش ہے۔ ایران طویل عرصے سے یہ کہتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے، تاہم خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مغربی ممالک کی جانب سے عائد پابندیوں کے بعد ایران کی عسکری قیادت اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مستحکم کرنے پر خاص توجہ دے رہی ہے۔ اس دھمکی کے بعد عالمی سطح پر سفارتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے بیانات خطے میں مزید غیر یقینی صورتحال پیدا کر سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات گزشتہ کئی دہائیوں سے اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں، لیکن حالیہ برسوں میں یہ کشیدگی عسکری نوعیت اختیار کر چکی ہے۔ تہران کا یہ کہنا کہ وہ جوہری حملے کی صورت میں جوابی کارروائی کرے گا، دراصل ایک 'ڈیٹرنس' پالیسی کا حصہ ہے تاکہ امریکہ کو کسی بھی براہ راست فوجی کارروائی سے باز رکھا جا سکے۔ ایران کی عسکری قیادت کا ماننا ہے کہ اپنی دفاعی صلاحیتوں کو واضح کرنا ہی دشمن کی جارحانہ عزائم کو روکنے کا بہترین طریقہ ہے۔
فی الحال، عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور مختلف ممالک کی جانب سے فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیلیں کی جا رہی ہیں۔ اگرچہ امریکہ کی جانب سے ابھی تک اس بیان پر کوئی براہ راست ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم سفارتی سطح پر اس بیان کو ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ ایران کا یہ عزم کہ وہ کسی بھی قیمت پر اپنی خود مختاری اور دفاع کا تحفظ کرے گا، آنے والے دنوں میں علاقائی سیاست میں مزید اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔