LIVE
Loading Breaking News...

شام پر اسرائیلی حملے اور خطے میں جاری کشیدگی کی مکمل تفصیل

News Image
شام میں اسرائیل کی جانب سے کیے گئے تازہ ترین فضائی حملے نے خطے میں کشیدگی کو ایک خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ امریکی سفیر نے خبردار کیا ہے کہ اس کارروائی کے نتیجے میں ترک فوج کے ساتھ براہ راست تصادم کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں اس وقت ایک نیا اور خطرناک موڑ آیا جب اسرائیل نے شام کی سرزمین پر ایک اور فضائی حملہ کیا۔ اس کارروائی نے نہ صرف شام کی خودمختاری کو متاثر کیا ہے بلکہ خطے کے اہم اسٹیک ہولڈرز کے درمیان ایک براہ راست مسلح تصادم کے امکانات کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی یہ کارروائی پہلے سے موجود سیاسی عدم استحکام میں مزید اضافہ کر رہی ہے، جس کے اثرات صرف شام تک محدود نہیں رہیں گے۔ اس حملے کی سب سے تشویشناک بات امریکی سفارت کاروں کی جانب سے جاری کردہ وہ وارننگ ہے جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ یہ اسرائیلی حملہ ایک ایسی بڑی جنگ کو جنم دے سکتا تھا جس میں ترک افواج براہ راست ملوث ہو سکتی تھیں۔ شام میں ترکی کی موجودگی اور اس کے اسٹریٹجک مفادات کے پیش نظر، وہاں کسی بھی غیر ملکی قوت کی کارروائی انتہائی حساس نوعیت کی حامل ہوتی ہے۔ اگر صورتحال قابو سے باہر ہوتی تو یہ خطے میں ایک ایسی براہ راست عسکری کشیدگی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی تھی جس سے بچنا عالمی برادری کی ترجیح ہے۔ عالمی سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اسرائیل کا یہ اقدام دراصل شام میں اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے، تاہم اس عمل میں دیگر طاقتور ممالک جیسے ترکی کی فوجی موجودگی کو نظر انداز کرنا ایک بڑی غلطی ثابت ہو سکتی ہے۔ ترکی شام کے شمالی حصوں میں اپنی سلامتی کے پیش نظر کارروائیوں میں مصروف ہے اور وہاں اسرائیلی فضائیہ کا فعال ہونا دونوں ممالک کے درمیان عسکری تصادم کے خطرے کو بڑھاتا ہے۔ مزید برآں، یہ صورتحال شام میں جاری خانہ جنگی کے توازن کو بھی بگاڑ سکتی ہے۔ عالمی طاقتیں، بالخصوص امریکہ اور روس، خطے میں کشیدگی کم کرنے کی اپیلیں کرتی رہی ہیں لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ اگر مستقبل میں ایسی کارروائیاں جاری رہتی ہیں تو اس کے نتیجے میں شام نہ صرف پراکسی جنگ کا میدان بنا رہے گا بلکہ یہ پڑوسی ممالک کے مابین بھی براہ راست تنازع کا باعث بن سکتا ہے۔ علاقائی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ تحمل کا مظاہرہ کیا جائے تاکہ ایک وسیع تر جنگ کے خطرے کو ٹالا جا سکے۔