World
شام میں قیام امن اور اسرائیل پر امریکی دباؤ کی ضرورت
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل میں انتخابات قریب آنے کے ساتھ نیتن یاہو سیاسی فائدے کے لیے کشیدگی بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شام میں پائیدار امن کے حصول کے لیے امریکہ کا اسرائیل پر سفارتی دباؤ ڈالنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
مشرق وسطیٰ کے نازک حالات میں ایک بار پھر شام کا معاملہ عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ حالیہ تجزیاتی رپورٹس کے مطابق اسرائیل میں تیزی سے قریب آتے ہوئے انتخابات کے پیش نظر وزیر اعظم نیتن یاہو کی حکومت اپنی سیاسی پوزیشن کو مستحکم کرنے کے لیے نئی کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کر سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی اشتعال انگیز کارروائیاں خطے میں پہلے سے موجود ڈی کنفلکشن یعنی تصادم سے بچاؤ کی کوششوں کو بری طرح نقصان پہنچا رہی ہیں، جس سے شام میں امن کا خواب مزید دور ہوتا نظر آ رہا ہے۔
بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کے مطابق، شام میں پائیدار امن کے قیام کے لیے واشنگٹن کا کردار انتہائی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ نیتن یاہو کی حکومت کی جانب سے سرحد پار کارروائیوں میں اضافہ دراصل داخلی سیاست کو متاثر کرنے کا ایک حربہ ہے، جس سے نہ صرف شام بلکہ پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں امریکہ پر یہ اخلاقی اور سفارتی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے اتحادی اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ تحمل کا مظاہرہ کرے اور کشیدگی میں مزید اضافے سے گریز کرے۔
امریکہ کا اسرائیل پر دباؤ صرف ایک سفارتی اقدام نہیں بلکہ یہ شام میں جاری انسانی بحران کو ختم کرنے کے لیے بھی ضروری ہے۔ اگر اسرائیل اپنی جارحانہ پالیسیوں پر نظر ثانی نہیں کرتا تو اس کے براہ راست اثرات خطے کے دیگر ممالک پر بھی مرتب ہوں گے، جس سے سفارتی کوششیں بے اثر ہو کر رہ جائیں گی۔ عالمی برادری بھی اب اس بات پر زور دے رہی ہے کہ نیتن یاہو کی داخلی سیاست کی بھینٹ پورے مشرق وسطیٰ کے امن کو نہیں چڑھایا جانا چاہیے۔
آخر میں، یہ کہنا بجا ہوگا کہ جب تک امریکہ اپنی پالیسیوں کو غیر جانبدارانہ انداز میں استعمال کرتے ہوئے اسرائیل کو کسی بھی ایسی غیر ضروری مہم جوئی سے نہیں روکتا، تب تک شام میں امن کا قیام ایک مشکل ہدف رہے گا۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا بائیڈن انتظامیہ اسرائیل پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے اسے تحمل کی راہ پر گامزن کرنے میں کامیاب ہوتی ہے یا پھر نیتن یاہو اپنی سیاسی بقا کے لیے خطے کو مزید آگ و خون کے دھانے پر کھڑا کر دیں گے۔