LIVE
Loading Breaking News...

ٹی وی کلچر کا زوال: ڈیجیٹل دور میں بکھرتی ہوئی معاشرتی اقدار

News Image
ایک وقت تھا جب ٹی وی شوز پوری قوم کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر دیتے تھے، لیکن اب ڈیجیٹل دور کی سہولت نے اجتماعی تجربے کو پارہ پارہ کر دیا ہے۔ اس تبدیلی نے نہ صرف تفریح کے انداز کو بدلا ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی کے جذبے کو بھی کم کر دیا ہے۔
ایک ایسا وقت تھا جب دفتر میں یا سماجی محفلوں میں آپ صرف چند الفاظ کہہ کر گفتگو کا آغاز کرتے تھے اور پورا کمرہ جان جاتا تھا کہ آپ کس ٹی وی ڈرامے یا پروگرام کا حوالہ دے رہے ہیں۔ یہ وہ دور تھا جب ٹیلی ویژن صرف ایک تفریحی آلہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسی معاشرتی لڑی تھا جس نے پوری نسل کو جوڑ رکھا تھا۔ ایک خاص وقت پر لوگ اپنے ٹی وی سیٹ کے گرد اکٹھے ہوتے، ایک ہی وقت میں ایک ہی کہانی کا مشاہدہ کرتے اور اگلے دن چائے کی میز پر اس پر بحث کرتے۔ یہ مشترکہ تجربہ معاشرے میں ایک یکجہتی پیدا کرتا تھا، جہاں لوگ ایک جیسے احساسات اور جذبات میں شریک ہوتے تھے۔ تاہم، آج کا دور اس سے یکسر مختلف ہے۔ اسٹریمنگ پلیٹ فارمز اور آن ڈیمانڈ سہولت نے تفریح کو انفرادی بنا دیا ہے۔ اب ہر شخص اپنی مرضی کے وقت پر اور تنہا اپنے موبائل یا لیپ ٹاپ پر کوئی بھی مواد دیکھ سکتا ہے۔ اس سہولت نے بلاشبہ انتخاب کی آزادی تو دی ہے، لیکن اس کی قیمت ہم نے اپنے اجتماعی ثقافتی ورثے کی صورت میں ادا کی ہے۔ اب ہمارے پاس کوئی 'مشترکہ' مواد نہیں رہا جس پر ہم ایک ساتھ بات کر سکیں، اور یوں ایک دوسرے سے جڑنے کا وہ پرانا ذریعہ تقریباً معدوم ہوتا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس تبدیلی نے نہ صرف خاندانی نظام پر اثر ڈالا ہے بلکہ ہمارے سماجی تعلقات کو بھی کمزور کیا ہے۔ جب ہر کوئی اپنے اپنے ببل میں بند ہو کر مواد دیکھتا ہے، تو معاشرے میں مکالمے کی گنجائش کم ہو جاتی ہے۔ پہلے ٹیلی ویژن کے شوز لوگوں کو مختلف طبقاتی اور نظریاتی پس منظر سے نکال کر ایک نقطہ نظر پر لاتے تھے، لیکن اب الگورتھمز کی مرضی پر مبنی اسٹریمنگ نے ہمیں اپنے پسندیدہ مواد تک محدود کر دیا ہے، جس سے ہم حقیقت سے بھی دور ہو رہے ہیں۔ آگے چل کر، یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ کیا ہم اس ڈیجیٹل سہولت کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے کھوئے ہوئے معاشرتی بندھنوں کو بحال کر سکتے ہیں؟ اگرچہ ٹیکنالوجی کو روکا نہیں جا سکتا، لیکن اس کے اثرات کو سمجھنا ضروری ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ٹیلی ویژن صرف ایک مشین نہیں تھا، بلکہ ایک عوامی پلیٹ فارم تھا جس نے ہمیں ایک قوم اور ایک معاشرے کے طور پر پہچان دی۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ایسے نئے طریقے تلاش کریں جو دوبارہ لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لا سکیں، نہ کہ صرف انہیں تنہائی میں تفریح فراہم کریں۔