Business
عالمی مارکیٹ میں ٹیکنالوجی کے حصص گراوٹ کا شکار
وال اسٹریٹ پر مصنوعی ذہانت کے شعبے سے وابستہ کمپنیوں کے حصص میں گراوٹ کے باعث مندی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ ڈاؤ جونز اور ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں مسلسل تیسرے روز بھی کمی واقع ہوئی ہے۔
منگل کے روز وال اسٹریٹ پر ایک بار پھر دباؤ دیکھا گیا جس کے نتیجے میں امریکی اسٹاک مارکیٹ اپنے بلند ترین ریکارڈ سے مزید نیچے آگئی ہے۔ اس گراوٹ کی بنیادی وجہ مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے سے وابستہ ٹیک کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں تیزی سے ہونے والی کمی ہے۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے حوالے سے محتاط رویہ اور مستقبل میں منافع کے تخمینوں پر بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال نے مارکیٹ کے جذبات کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج 116.38 پوائنٹس یعنی 0.2 فیصد کی کمی کے ساتھ 53,343.40 پر بند ہوا، جو کہ مارکیٹ میں جاری مندی کے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی طرح، ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں بھی 53.30 پوائنٹس یعنی 0.7 فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی، جس کے بعد یہ انڈیکس 7,691.76 کی سطح پر آگیا ہے۔ یہ مسلسل تیسرا سیشن ہے جس میں ایس اینڈ پی 500 کو معمولی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے، حالانکہ کچھ عرصہ قبل ہی یہ انڈیکس اپنی تاریخی بلندیوں پر پہنچ چکا تھا۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ مہینوں میں اے آئی ٹیکنالوجی کی کمپنیوں نے جو غیر معمولی ترقی کی تھی، اب سرمایہ کار اس کی پائیداری کے بارے میں سوالات اٹھا رہے ہیں۔ ٹیک اسٹاکس میں اس طرح کی اتار چڑھاؤ سے ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والے افراد خاصے محتاط نظر آ رہے ہیں۔ اگرچہ مصنوعی ذہانت کو مستقبل کا اہم ترین شعبہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم قلیل مدتی منافع کے حوالے سے ابہام نے مارکیٹ کو وقتی طور پر گراوٹ کی طرف دھکیل دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کے سہ ماہی نتائج مارکیٹ کی سمت کا تعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ فی الحال سرمایہ کار انتظار اور دیکھو کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ مندی ایک وقتی اصلاح ہے یا یہ طویل عرصے تک جاری رہنے والا گراوٹ کا سلسلہ ثابت ہوگا۔