LIVE
Loading Breaking News...

کامکاسٹ کا صارفین کے وائی فائی روٹر ڈیٹا کو تیسری پارٹیوں کو بیچنے کا فیصلہ

News Image
امریکی ٹیلی کام کمپنی کامکاسٹ اپنے وائی فائی روٹرز کے ذریعے گھروں میں ہونے والی نقل و حرکت کا ڈیٹا تیسرے فریق کو فروخت کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ اس اقدام پر صارفین اور پرائیویسی ماہرین کی جانب سے شدید تشویش اور تنقید کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
امریکہ کی معروف ٹیلی کمیونیکیشن اور انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنی کامکاسٹ ایک نئے تنازع کی زد میں آ گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق کمپنی اپنے صارفین کے گھروں میں نصب وائی فائی روٹرز سے نقل و حرکت کا ڈیٹا جمع کر کے اسے تیسرے فریق یعنی تھرڈ پارٹی کمپنیوں کو فروخت کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ اس فیصلے کے سامنے آتے ہی تکنیکی ماہرین اور صارفین کی جانب سے شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے اور اسے ذاتی زندگی میں بلاجواز مداخلت قرار دیا جا رہا ہے۔یہ ٹیکنالوجی وائی فائی روٹر اور اس سے منسلک دیگر ڈیوائسز کے درمیان سگنلز میں آنے والے خلل کی بنیاد پر کام کرتی ہے۔ جب گھر کے اندر کوئی شخص یا اشیا حرکت کرتی ہیں تو سگنل کی لہروں میں تبدیلی آتی ہے، جسے روٹر بطور ڈیٹا ریکارڈ کر لیتا ہے۔ اگرچہ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ فیچر صارفین کی اجازت سے فعال کیا جائے گا، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ تجارتی مقاصد کے لیے اس قسم کے ڈیٹا کی فروخت سے شہریوں کی پرائیویسی مکمل طور پر ختم ہو کر رہ جائے گی۔عوامی حلقوں اور انٹرنیٹ صارفین نے اس اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ تجارتی کمپنیاں منافع کمانے کے لیے صارفین کی ذاتی معلومات اور گھریلو سرگرمیوں کو رقم میں بدل رہی ہیں۔ امریکہ میں ٹیکنالوجی سے متعلق برادریوں میں اس معاملے پر گرم جوش بحث جاری ہے، جہاں بہت سے لوگ کامکاسٹ کے اس اقدام کو غصے اور بے اطمینانی کا باعث قرار دے رہے ہیں۔ پرائیویسی کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ حکومت کو ایسے اقدامات کی روک تھام کے لیے سخت قوانین وضع کرنے چاہئیں۔تکنیکی ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ سگنل میں خلل کی بنیاد پر نقل و حرکت کا پتہ لگانے کا یہ نظام سو فیصد درست نہیں ہے کیونکہ گھر میں موجود پالتو جانوروں کی وجہ سے بھی غلط ڈیٹا درج ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود اس ڈیٹا کو تجارتی بنیادوں پر فروخت کرنے کی کوشش نے ڈیجیٹل پرائیویسی اور ڈیٹا تحفظ کے حوالے سے ایک نیا سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کمپنیوں کو صارفین کے اعتماد کا احترام کرنا چاہیے نہ کہ ان کی ہر نقل و حرکت کی نگرانی کر کے اسے مارکیٹنگ کا ذریعہ بنانا چاہیے۔