World
پاکستان کا ایران کو چینی میزائل ترسیل کے الزامات پر ردعمل
حالیہ میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چین کی جانب سے پاکستان کے راستے ایران کو سیکڑوں فضائی دفاعی میزائل منتقل کیے جا رہے ہیں۔ اسلام آباد نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے بے بنیاد قرار دیا ہے۔
عالمی میڈیا میں گردش کرنے والی حالیہ رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کو جلد ہی چین ساختہ کندھے سے فائر کیے جانے والے فضائی دفاعی میزائل سسٹمز موصول ہونے والے ہیں۔ بعض بھارتی اور مغربی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان ہتھیاروں کی مبینہ ترسیل کے لیے پاکستان کی سرزمین استعمال کی جا رہی ہے اور اسلام آباد اس عمل میں سہولت کاری کر رہا ہے۔ ان رپورٹس کے سامنے آنے کے بعد بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور خطے میں سیاسی و عسکری گماشتوں کی نظریں اس معاملے پر لگی ہوئی ہیں۔ دوسری جانب، پاکستان نے ان تمام الزامات کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے۔ دفتر خارجہ اور متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے اور یہ محض بے بنیاد پروپیگنڈا ہے جس کا مقصد خطے کے امن کو خراب کرنا اور پاکستان کے سفارتی تعلقات کو متاثر کرنا ہے۔ حکام نے واضح کیا کہ پاکستان کسی بھی ایسے عمل کا حصہ نہیں ہے جو خطے میں کشیدگی میں اضافے کا باعث بنے۔ دریں اثنا، چین نے بھی ان الزامات کی تردید کی ہے کہ وہ ایران کو اس نوعیت کے ہتھیار فراہم کرنے کا کوئی ارادہ رکھتا ہے۔ عالمی امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے الزامات کا مقصد مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے جیو پولیٹیکل حالات کو مزید پیچیدہ بنانا ہے۔ صورتحال پر بین الاقوامی برادری کی نظریں جمی ہوئی ہیں جبکہ پاکستان نے اپنی خودمختاری اور غیر جانبدارانہ خارجہ پالیسی پر کاربند رہنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔