LIVE
Loading Breaking News...

راماكو ریسورسز اور انڈیم کارپوریشن کا اہم معدنیات کے لیے معاہدہ

News Image
راماكو ریسورسز انکارپوریٹڈ نے انڈیم کارپوریشن کے ساتھ ایک غیر پابند مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرنے کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد اہم معدنیات اور نایاب دھاتوں کی پائیدار فراہمی کے لیے تجارتی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
امریکی ریاست کینٹکی کے شہر لیکسنگٹن سے جاری ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق معدنیات اور کوئلے کی پیداوار سے منسلک معروف امریکی کمپنی راما کو ریسورسز انکارپوریٹڈ نے انڈیم کارپوریشن کے ساتھ ایک غیر پابند مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد دونوں کمپنیوں کے درمیان نایاب معدنیات اور اہم دھاتوں کی باقاعدہ اور پائیدار فراہمی کے لیے تجارتی شراکت داری قائم کرنا ہے۔ اس اہم پیش رفت سے امریکی اور عالمی منڈی میں نایاب دھاتوں کی فراہمی کے سلسلے کو استحکام ملنے کی قوی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ راما کو ریسورسز جو ناسڈیک اسٹاک ایکسچینج پر درج فہرست کمپنی ہے، طویل عرصے سے سٹریٹجک معدنیات اور اعلیٰ معیار کی صنعتی دھاتوں کی دریافت اور پیداوار میں مصروف عمل ہے۔ انڈیم کارپوریشن کے ساتھ اس کی تازہ ترین شراکت داری جدید ٹیکنالوجی، الیکٹرانکس اور اعلیٰ تکنیکی صنعتوں میں استعمال ہونے والی اہم دھاتوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مانگ کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ اس مفاہمت کی یادداشت کے تحت دونوں ادارے ایک دوسرے کی فنی اور تجارتی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سپلائی چین کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات کریں گے۔ معاشی اور صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی معاشی تناظر میں نایاب معدنیات اور اہم عناصر کی بلا تعطل فراہمی انتہائی ضروری ہو چکی ہے۔ اس قسم کے تجارتی معاہدو ں سے نجی شعبے کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور الیکٹرانکس، دفاعی آلات اور جدید توانائی کے شعبوں کے لیے خام مال کی دستیابی یقینی بنتی ہے۔ راما کو ریسورسز کی انتظامیہ نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ ابتدائی یادداشت جلد ہی ایک حتمی، جامع اور پائیدار تجارتی معاہدے کی شکل اختیار کر لے گی جس سے دونوں اداروں کو معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔ اس معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے دونوں کمپنیوں کے وفود اور تکنیکی ماہرین کے درمیان آئندہ دنوں میں مزید تفصیلی مذاکرات اور تکنیکی جائزہ لیا جائے گا۔ اگرچہ یہ مفاہمت فی الحال غیر پابند حیثیت رکھتی ہے، تاہم انڈیم کارپوریشن کی جانب سے اس پیش رفت کو انتہائی مثبت قرار دیا گیا ہے اور اسے باہمی صنعتی ترقی کی جانب ایک بڑا اور اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔