LIVE
Loading Breaking News...

ڈیوڈ ساکس اور اے آئی ریگولیشنز پر بحث، اینتھروپک کا مؤقف

News Image
ڈیوڈ ساکس کا کہنا ہے کہ اینتھروپک کے سی ای او ڈاریو اموڈی اے آئی انڈسٹری کے لیے سخت حکومتی ضابطے چاہتے ہیں۔ تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ دیگر صنعتیں بھی سخت حفاظتی ضوابط کے باوجود کامیابی سے ترقی کرتی ہیں۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں مصنوعی ذہانت (AI) کے ضوابط اور ریگولیشنز کے حوالے سے بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ حالیہ تبصروں میں ڈیوڈ ساکس نے دعویٰ کیا ہے کہ اینتھروپک (Anthropic) کے سی ای او ڈاریو اموڈی مصنوعی ذہانت کے شعبے کے لیے ایک سخت نظام چاہتے ہیں، جسے انہوں نے 'ڈی ایم وی فار اے آئی' سے تشبیہ دی ہے۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ طاقتور ماڈلز کو مارکیٹ میں لانے سے پہلے کڑے امتحانات اور حکومتی نگرانی سے گزارا جائے۔ دوسری طرف، انڈسٹری کے اندر اس بات پر اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا اس نوعیت کے سخت قوانین اس ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کی رفتار کو سست کر دیں گے یا اسے محفوظ بنائیں گے۔ حامیوں کا مؤقف ہے کہ سکیورٹی کنٹرولز اور حفاظتی ضوابط کے بغیر بڑے خطرات جنم لے سکتے ہیں، جن میں ڈیٹا کی چوری اور سکیورٹی ہیکس شامل ہیں جیسا کہ حالیہ دنوں میں ہگنگ فیس (Hugging Face) کے واقعے سے ظاہر ہوا۔ اس کے علاوہ، اوپن اے آئی (OpenAI) جیسی بڑی کمپنیاں بھی ٹریننگ کے عمل میں توقف اور اضافی حفاظتی اقدامات پر غور کر رہی ہیں تاکہ دنیا بھر میں صارفین کے لیے محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔ ناقدین کا خیال ہے کہ ضرورت سے زیادہ ریگولیشن صرف بڑی کمپنیوں کو فائدہ پہنچاتی ہے اور چھوٹی اسٹارٹ اپ کمپنیوں کے لیے مارکیٹ میں مقابلہ کرنا ناممکن بنا دیتی ہے۔ اس کے باوجود، تاریخ یہ بتاتی ہے کہ کئی دوسری صنعتیں، جن میں ادویہ سازی اور ایوی ایشن شامل ہیں، سخت ترین حفاظتی ضوابط کے باوجود کامیابی سے پروان چڑھی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے مستقبل کو شکل دینے کے لیے انڈسٹری اور حکومت کے درمیان ایک متوازن لائحہ عمل طے کرنا انتہائی ضروری ہوگا تاکہ جدت اور تحفظ دونوں کا ساتھ ساتھ حصول ممکن ہو سکے۔