World
پاکستان اور ترکی کا علاقائی امور اور غزہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور ترک وزیر خارجہ نے خطے کی تازہ ترین صورتحال پر ٹیلی فونک گفتگو کی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں اور مسجد اقصی کی بے حرمتی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اسلام آباد (نیکسرہ نیوز) پاکستان اور ترکی نے خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور بالخصوص مشرق وسطیٰ کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ترک ہم منصب کے ساتھ ٹیلی فونک رابطہ کیا جس میں باہمی دلچسپی کے امور سمیت غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اس گفتگو کا بنیادی مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو تیز کرنا اور متاثرہ فلسطینی عوام کے لیے امداد کی فراہمی کو یقینی بنانا تھا۔ رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی برادری کو غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں جاری فوجی کارروائیوں کو روکنے کے لیے فوری اور مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔
اس کے علاوہ، پاکستان کے وزیر خارجہ نے اردن کے وزیر خارجہ ایمن صفادی سے بھی ایک اہم ٹیلی فونک رابطہ کیا جس میں خطے کے امن و امان، سفارتی کوششوں اور فلسطین کی سنگین صورتحال کا احاطہ کیا گیا۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے فلسطینی بھائیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی اور مسجد اقصی کی وقتاً فوقتاً ہونے والی بے حرمتی کو ناقابل قبول قرار دیا۔ ان رابطوں کے دوران اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ مسلم امہ کو فلسطین کے منصفانہ کاز کے لیے ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو کر آواز بلند کرنی چاہیے تاکہ خطے میں پائیدار امن کا قیام ممکن ہو سکے۔
بین الاقوامی سطح پر پاکستان، ترکی، اردن اور مصر جیسے ممالک کی جانب سے اسرائیل کے فوجی اقدامات کی مسلسل مذمت اور سفارتی سطح پر رابطوں میں تیزی اس بات کی غماز ہے کہ مسلم دنیا اس انسانی المیے پر خاموش تماشائی نہیں رہ سکتی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ان اعلیٰ سطحی رابطوں سے خطے میں ایک مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے میں مدد ملے گی، جس سے نہ صرف انسانی امداد کی ترسیل کو آسان بنایا جا سکے گا بلکہ فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے عالمی دباؤ میں بھی اضافہ ہوگا۔ پاکستان کی طرف سے اس موقع پر دوٹوک مؤقف اپنایا گیا کہ فلسطینیوں کی سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھی جائے گی جب تک کہ انہیں ان کا حقِ خودارادیت اور آزاد ریاست نہیں مل جاتی۔