LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ کی جیلوں میں گنجائش کا سنگین بحران

News Image
انگلینڈ اور ویلز کی جیلوں میں قیدیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث جگہ انتہائی کم رہ گئی ہے۔ حکام کے مطابق موجودہ گنجائش مارچ کے بعد اپنی نچلی ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔
انگلینڈ اور ویلز میں واقع مردانہ جیلوں کے نظام کو اس وقت ایک سنگین بحران کا سامنا ہے، جہاں دستیاب گنجائش گزشتہ کئی ماہ کی نچلی ترین سطح پر آ گئی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، اب ان جیلوں میں صرف 1800 سے بھی کم قیدیوں کی جگہ باقی رہ گئی ہے۔ یہ صورتحال مارچ کے مہینے کے بعد سے اب تک کی سب سے کم سطح ہے، جو برطانوی محکمہ انصاف کے لیے ایک بڑی تشویش کا باعث بن رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر قیدیوں کی آمد کا سلسلہ اسی رفتار سے جاری رہا تو جیلوں میں مزید گنجائش پیدا کرنا ناممکن ہو جائے گا، جس سے نظامِ عدل پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ جیلوں میں جگہ کی کمی کے اس بحران کی بنیادی وجہ جرائم کی شرح میں اضافہ اور عدالتوں کی جانب سے سزاؤں کے فیصلوں میں تیزی بتائی جا رہی ہے۔ برطانیہ کی جیلیں پہلے ہی اپنی گنجائش سے زیادہ قیدیوں کو رکھنے پر مجبور ہیں، جس کے باعث انتظامیہ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ گنجائش سے زیادہ قیدیوں کے رکھنے سے نہ صرف جیلوں کے اندر سیکیورٹی کے مسائل پیدا ہوں گے بلکہ قیدیوں کی صحت اور بحالی کے پروگراموں پر بھی براہِ راست اثر پڑے گا۔ حکام اب اس مسئلے کے حل کے لیے متبادل راستے تلاش کر رہے ہیں تاکہ جیلوں پر پڑنے والا بوجھ کم کیا جا سکے۔ وزارتِ انصاف کے ترجمان کے مطابق حکومت اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعدد ہنگامی اقدامات پر غور کر رہی ہے۔ ان اقدامات میں نئی جیلوں کی تعمیر کی رفتار بڑھانا اور کچھ قیدیوں کو قبل از وقت رہائی دینے کے امکانات کا جائزہ لینا شامل ہے۔ تاہم، یہ اقدامات طویل مدتی حل فراہم کرنے میں ناکام ثابت ہو رہے ہیں کیونکہ عدالتی کارروائیوں کے بعد جیل بھیجے جانے والے نئے مجرموں کی تعداد گنجائش سے کہیں زیادہ ہے۔ عوامی حلقوں میں اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ اگر اس بحران کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو یہ برطانیہ کے امن و امان کے نظام کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ اس صورتحال نے حکومت کو ایک سخت دو راہے پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں ایک طرف جیلوں میں جگہ کی قلت ہے اور دوسری طرف جرائم کے انسداد کے لیے سخت سزاؤں پر عمل درآمد ضروری ہے۔ آنے والے دنوں میں حکومت کو جیل کے بجٹ اور انتظامی امور میں بڑی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ برطانیہ کا موجودہ سیاسی ڈھانچہ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے کیا ٹھوس حکمتِ عملی اپناتا ہے اور کیا وہ آنے والے وقت میں جیلوں کی گنجائش کو مطلوبہ سطح تک لانے میں کامیاب ہو سکے گا۔