Technology
نیویارک میں نگرانی کرنے والے کیمرے اور پرائیویسی کا تنازعہ
نیویارک شہر میں نگرانی کرنے والے جدید کیمروں کے پھیلاؤ پر شہریوں اور پرائیویسی کے حامیوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ اگرچہ فلک سیفٹی کے کیمروں کے بارے میں قیاس آرائیاں جاری ہیں، لیکن حکام نے اس ٹیکنالوجی کے استعمال پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
نیویارک شہر کی سڑکوں پر نصب جدید ترین نگرانی والے کیمروں اور 'بگ برادر' جیسی نگرانی کی ٹیکنالوجی کے حوالے سے عوامی حلقوں میں شدید بحث چھڑ گئی ہے۔ حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق، شہری ان کیمروں کے پھیلاؤ سے پریشان ہیں جو نہ صرف نقل و حرکت پر نظر رکھتے ہیں بلکہ ڈیٹا جمع کرنے کا ایک بڑا ذریعہ بھی بن چکے ہیں۔ اگرچہ 'فلک سیفٹی' (Flock Safety) کے نام سے معروف ان کیمروں کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں، لیکن لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی نجی زندگی میں مداخلت کے مترادف ہے۔ نیویارک کے رہائشی اس بات پر سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر یہ کیمرے کہاں نصب ہیں اور ان کے ذریعے جمع کیا گیا ڈیٹا کہاں محفوظ کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے اس دور میں عوامی مقامات پر مسلسل نگرانی کا عمل شہریوں کے بنیادی حقوق کو متاثر کر سکتا ہے۔ سماجی کارکنوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے مکمل شفافیت کا مظاہرہ کریں۔ انٹرنیٹ صارفین اور سوشل میڈیا گروپس میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ کیا واقعی سیکیورٹی کے نام پر انسانی آزادیوں کو سلب کیا جانا چاہیے؟ نیویارک کے مصروف ترین مقامات پر نصب ان آلات کو اکثر اوقات 'بگ برادر' کا نام دیا جا رہا ہے، جو کہ حکومتی نگرانی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
دوسری جانب، حکام کا یہ موقف ہے کہ اس طرح کی نگرانی کا مقصد جرائم کی روک تھام اور شہر کو زیادہ محفوظ بنانا ہے۔ تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ بغیر کسی ٹھوس نگرانی اور قوانین کے، ایسی ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ نیویارک شہر کی کتنی فیصد حدود میں اس طرح کی نگرانی کا نظام فعال ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے شہریوں میں شکوک و شبہات بڑھ رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں عوامی دباؤ کے پیش نظر یہ توقع کی جا رہی ہے کہ حکام کو اس حوالے سے پالیسی بیان جاری کرنا پڑے گا تاکہ عوام کے تحفظات کو دور کیا جا سکے۔