Pakistan
سابق سینیٹر مشتاق احمد کی رہائی، مبینہ حراست کا معاملہ
پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد کو سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے مبینہ طور پر حراست میں لیے جانے کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور سیاسی حلقوں کی جانب سے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔
اسلام آباد (نیکسورا نیوز) پاکستان کے معروف سیاسی رہنما اور سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کو مبینہ طور پر حراست میں لیے جانے کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ آزاد جموں و کشمیر کا سفر کر رہے تھے۔ اس مبینہ حراست کی خبر سامنے آتے ہی ملک بھر کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں ہلچل مچ گئی تھی اور مختلف تنظیموں کی جانب سے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس واقعے کو اظہارِ رائے کی آزادی اور سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی تھی۔
اطلاعات کے مطابق سابق سینیٹر مشتاق احمد کو کچھ دیر کے لیے حراست میں رکھا گیا اور بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا۔ رہائی کے بعد انہوں نے سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر اپنے چاہنے والوں اور حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مظلوم عوام اور حق کی آواز بلند کرنے کے مشن سے پیچھے نہیں ہٹیں گے چاہے انہیں کتنی ہی مشکلات کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔
سابق سینیٹر کی حراست اور رہائی کے اس واقعے نے ملک میں سیاسی کشیدگی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار پر ایک بار پھر بحث کو جنم دے دیا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ سیاستدانوں اور عوامی نمائندوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ اس حوالے سے مزید تفصیلات کا انتظار ہے جبکہ حکومتی یا سکیورٹی اداروں کی جانب سے اس واقعے پر باضابطہ بیان سامنے آنا باقی ہے۔