World
ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ ان کے تعلقات: امریکی صدر کا بڑا بیان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہترین قرار دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کے اور کم جونگ ان کے درمیان بہترین ہم آہنگی اور باہمی افہام و تفہیم موجود ہے۔
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے اعلیٰ ترین رہنما کم جونگ ان کے ساتھ اپنے ذاتی اور سفارتی تعلقات کی ایک بار پھر تعریف کی ہے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کا کہنا تھا کہ ان کے اور کم جونگ ان کے درمیان بہت اچھے تعلقات ہیں اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ بہت اچھی طرح وقت گزارتے اور معاملات کو سمجھتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان عالمی سطح پر دونوں ممالک کے معاشی، سفارتی اور دفاعی تعلقات کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ امریکی صدر کے مطابق، ماضی میں دونوں ممالک کے درمیان شدید کشیدگی اور ایٹمی خدشات کے باوجود، ان کی ذاتی کوششوں اور سفارتی رابطوں کی بدولت برف پگھلی۔ ٹرمپ نے یاد دہانی کرائی کہ ان کے پچھلے دورِ اقتدار میں دونوں رہنماؤں کے درمیان تاریخی ملاقاتیں ہوئیں جن میں سنگاپور اور ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی میں ہونے والی سربراہی کانفرنسیں شامل ہیں۔ ان ملاقاتوں نے دونوں ممالک کے دہائیوں پر محیط معاندانہ تعلقات میں ایک نیا موڑ پیدا کیا تھا اور خطے میں امن کی امیدیں روشن کی تھیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا کم جونگ ان کے ساتھ تعلقات پر یہ مثبت بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ مستقبل میں بھی شمالی کوریا کے ساتھ براہ راست مذاکرات کو ترجیح دے سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ ایک وقت تھا جب دونوں ممالک جنگ کے دہانے پر پہنچ چکے تھے، لیکن ان کے اور کم جونگ ان کے درمیان قائم ہونے والے ذاتی رابطہ نے حالات کو سدھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اگرچہ شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام اور عالمی پابندیوں کے پیچیدہ مسائل ابھی تک مکمل طور پر حل نہیں ہو سکے ہیں، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کے اس حالیہ بیان نے ایک بار پھر عالمی برادری کی توجہ اس نازک سفارتی تعلق کی طرف مبذول کروا دی ہے۔ ماہرین کے مطابق، واشنگٹن اور پیانگ یانگ کے درمیان آئندہ کی حکمت عملی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ دونوں رہنما باہمی تعلقات کو کس سمت میں آگے بڑھاتے ہیں۔