LIVE
Loading Breaking News...

میٹا اور زکربرگ کے خلاف بچوں کی سوشل میڈیا لت کا تاریخی مقدمہ شروع

News Image
امریکی عدالت میں میٹا کے خلاف بچوں کو فیس بک اور انسٹاگرام کا عادی بنانے کے تاریخی مقدمے کی سماعت شروع ہو گئی ہے۔ وسل بلور نے گواہی دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ مارک زکربرگ نے بچوں کی سلامتی کے حوالے سے عوام سے جھوٹ بولا ہے۔
امریکی ریاست کی عدالت میں سوشل میڈیا کی دیو قامت کمپنی 'میٹا' کے خلاف ایک تاریخی اور سب سے بڑے مقدمے کی سماعت شروع ہو گئی ہے، جس میں کمپنی پر بچوں اور نوجوانوں کو فیس بک اور انسٹاگرام کا شدید عادی بنانے کا الزام ہے۔ سماعت کے دوران میٹا کے ایک سابق وسل بلور نے زبردست گواہی دیتے ہوئے کہا کہ کمپنی کے سربراہ مارک زکربرگ نے بچوں کی حفاظت کے بارے میں اپنے تمام دعوؤں میں جھوٹ بولا ہے۔ مقدمے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ میٹا کے پلیٹ فارمز کو دانستہ طور پر اس طرح ڈیزائن کیا گیا تاکہ کمسن بچوں اور نوجوانوں کی توجہ کو مسلسل جکڑ کر رکھا جا سکے، جس سے ان کی ذہنی صحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ عدالت میں پیش کیے گئے حقائق اور گواہوں کے بیانات کے مطابق، فیس بک اور انسٹاگرام کے الگورتھم بچوں میں بے چینی، افسردگی اور سوشل میڈیا کی لت کو فروغ دینے کا باعث بن رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، یہ مقدمہ میٹا کے لیے اب تک کا سب سے بڑا قانونی چیلنج بن چکا ہے، جس میں مختلف امریکی ریاستوں کے پراسیکیوٹرز اور متاثرہ خاندان شامل ہیں۔ وسل بلور نے عدالت کو بتایا کہ کمپنی کی اعلیٰ قیادت اندرونی طور پر بچوں کی ذہنی صحت کے لیے خطرات سے مکمل طور پر آگاہ تھی، لیکن اس کے باوجود منافع کمانے کے لیے ان انتباہات کو نظر انداز کیا گیا اور عوام کو گمراہ کن معلومات فراہم کی گئیں۔ دوسری جانب، میٹا نے ان تمام الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ کمپنی کے وکلائے صفائی نے عدالت میں موقف اختیار کیا ہے کہ میٹا نے ہمیشہ بچوں اور نوجوانوں کی آن لائن حفاظت کو ترجیح دی ہے اور ان کے لیے متعدد سیکیورٹی فیچرز متعارف کرائے ہیں۔ میٹا کا کہنا ہے کہ پلیٹ فارمز کا مقصد صارفین کو جوڑنا ہے نہ کہ انہیں کسی قسم کی لت میں مبتلا کرنا، اور یہ کہ کمپنی بچوں کے لیے محفوظ آن لائن ماحول فراہم کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ تاہم، مقدمے کی پیچیدگی اور وسل بلور کے سنسنی خیز انکشافات نے دنیا بھر میں سوشل میڈیا کمپنیوں کی جوابدہی پر نیا سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔