World
جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے، بے گھر لبنانی شہریوں کی دور سے دیکھتی آنکھیں
جنوبی لبنان سے بے گھر ہونے والے ہزاروں شہری اپنے ابائی علاقوں میں جاری اسرائیلی بمباری کو دور سے بے بسی کے ساتھ دیکھنے پر مجبور ہیں۔ الجزیرہ کے صحافی علی ہاشم کے مطابق لوگ اپنے ہی گھروں کی تباہی کو صرف دیکھ سکتے ہیں لیکن وہاں جانے یا کچھ کرنے سے بالکل قاصر ہیں۔
جنوبی لبنان میں اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے درمیان جاری شدید کشیدگی اور مسلسل بمباری نے ہزاروں مقامی رہائشیوں کو اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔ سرحد کے قریب واقع دیہاتوں اور شہروں سے بے گھر ہونے والے یہ شہری اب دور دراز علاقوں میں پناہ گزین ہیں، جہاں سے وہ اپنے ابائی علاقوں میں ہونے والے دھماکوں اور دھوئیں کے بادلوں کو دور سے ہی دیکھنے پر مجبور ہیں۔ صورتحال اس قدر بھیانک ہو چکی ہے کہ شہری اپنے گھروں کا احوال جاننے کے لیے بھی وہاں جانے کی ہمت نہیں رکھتے۔ الجزیرہ کے سینئر صحافی علی ہاشم نے اپنے ابائی قصبے کے قریب ہونے والے اسرائیلی حملوں کی آنکھوں دیکھی صورتحال بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت شہریوں کے پاس سوائے دور سے دیکھنے کے اور کوئی چارہ نہیں ہے۔ علی ہاشم کے مطابق، لوگ پہاڑیوں اور اونچے مقامات پر کھڑے ہو کر اپنے ہی گھروں پر گرنے والے بموں کو دیکھتے ہیں لیکن وہ اپنی املاک اور پیاروں کی حفاظت کے لیے کچھ بھی کرنے سے قاصر ہیں۔ یہ بے بسی ان تمام خاندانوں کا مقدر بن چکی ہے جنہیں راتوں رات اپنا سامان چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ اسرائیلی فورسز کی جانب سے جنوبی لبنان کے چند مخصوص علاقوں کو فوجی کارروائی کے مراکز میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جہاں مسلسل فضائی اور توپ خانے سے حملے کیے جا رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی مبصرین نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرحدی علاقوں سے لوگوں کا بڑے پیمانے پر انخلا ایک انسانی بحران کو جنم دے رہا ہے۔ بے گھر ہونے والے افراد میں بچے، خواتین اور بوڑھے شامل ہیں جو عارضی پناہ گاہوں میں بنیادی سہولیات سے محروم زندگی گزار رہے ہیں۔ مقامی لبنانی شہریوں کا کہنا ہے کہ سرحدی کشیدگی نے ان کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے اور وہ اپنے مستقبل سے بالکل ناامید ہو چکے ہیں۔ وہ ہر روز اس آس کے ساتھ سرحد کی جانب دیکھتے ہیں کہ شاید جنگ بندی ہو جائے اور وہ اپنے تباہ حال گھروں کو لوٹ سکیں، لیکن مسلسل جاری بمباری سے ایسا لگتا ہے کہ ان کا انتظار ابھی طویل ہو گا۔ عالمی برادری کی جانب سے فوری جنگ بندی کے مطالبے کے باوجود سرحد کے دونوں جانب حالات انتہائی کشیدہ بنے ہوئے ہیں۔