LIVE
Loading Breaking News...

ایٹمی پھیلاؤ کا خطرہ اور امریکہ کی کمزور ہوتی دفاعی چھتری

News Image
امریکہ کی جانب سے فراہم کردہ ایٹمی دفاعی چھتری کے کمزور پڑنے سے اتحادی ممالک اپنی دفاعی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہیں۔ ماہرین خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ صورتحال عالمی سطح پر ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے ایک نئے سلسلے کا سبب بن سکتی ہے۔
کئی دہائیوں تک دنیا بھر میں امریکہ کے اتحادی اس یقین پر مطمئن رہے کہ واشنگٹن کی ایٹمی چھتری انہیں ہر قسم کے بیرونی خطرات سے محفوظ رکھے گی، تاہم حالیہ عالمی سیاسی تبدیلیوں نے اس یقین کو متزلزل کر دیا ہے۔ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں جب امریکہ کی ترجیحات تبدیل ہو رہی ہیں، تو متعدد اتحادی ممالک اب خود کو تنہا محسوس کرنے لگے ہیں۔ اس صورتحال نے ان ممالک کو مجبور کیا ہے کہ وہ اپنی دفاعی حکمت عملیوں پر نظر ثانی کریں اور متبادل راستے تلاش کریں، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاؤ کا خطرہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ماہرینِ خارجہ پالیسی اور دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ کے اتحادی ممالک کو یہ محسوس ہوا کہ ان کی سیکیورٹی کی ضمانتیں کمزور پڑ رہی ہیں، تو وہ اپنے دفاع کے لیے ایٹمی طاقت بننے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ یہ ایک خطرناک رجحان ہے جو دنیا کو ایک ایسی دوڑ میں دھکیل سکتا ہے جہاں چھوٹے اور درمیانے درجے کے ممالک بھی اپنے ایٹمی پروگرام شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ ایسی پیش رفت نہ صرف علاقائی توازن کو بگاڑ دے گی بلکہ عالمی جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدوں (NPT) کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ثابت ہوگی۔ روس اور چین کی بڑھتی ہوئی فوجی صلاحیتوں کے پیش نظر، ایشیا اور یورپ کے کئی ممالک اب صرف واشنگٹن پر انحصار کرنے کے بجائے خود انحصاری کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یہ 'ایٹمی عدم تحفظ' کا احساس ایک ایسے 'کیسکیڈ ایفیکٹ' یا سلسلہ وار پھیلاؤ کو جنم دے سکتا ہے جسے روکنا بین الاقوامی برادری کے لیے ناممکن ہوگا۔ اگر جاپان، جنوبی کوریا یا مشرقی یورپ کے کچھ ممالک ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس سے ایک نیا ایٹمی بلاک تشکیل پا سکتا ہے جو پوری دنیا کے لیے تشویش کا باعث ہوگا۔ مستقبل کے حوالے سے یہ صورتحال انتہائی نازک دکھائی دیتی ہے کیونکہ سفارتی سطح پر ایٹمی ہتھیاروں کی تخفیف کے بجائے اب ہر ملک اپنی بقا کے لیے ان ہتھیاروں کو بہترین ضامن سمجھ رہا ہے۔ عالمی طاقتوں کو اس بڑھتے ہوئے بحران پر قابو پانے کے لیے نئے سرے سے سیکیورٹی آرکیٹیکچر بنانے کی ضرورت ہے۔ اگر اس صورتحال کو بروقت نہ روکا گیا تو آنے والی دہائیوں میں دنیا ایک ایسے ایٹمی پھیلاؤ کا شکار ہو سکتی ہے جس کا نتیجہ ناقابل تلافی تباہی کی صورت میں نکلے گا۔