LIVE
Loading Breaking News...

بلاک کا نیا اوپن سورس AI ورک اسپیس برڈ: ڈیٹا سیکیورٹی اور لوکل اسٹوریج کی خصوصیات

News Image
معروف ٹیکنالوجی کمپنی بلاک نے 'برڈ' نامی نیا ایجنٹ ورک اسپیس اپاچی 2.0 لائسنس کے تحت جاری کر دیا ہے۔ یہ جدید ٹول مختلف مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کے ساتھ کام کرتا ہے اور صارف کی گفتگو کی ہسٹری کو مقامی طور پر محفوظ رکھتا ہے۔
معروف ٹیکنالوجی کمپنی بلاک نے مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے 'برڈ' (Berd) نامی نیا ایجنٹ ورک اسپیس متعارف کرا دیا ہے۔ اس جدید ٹول کو اوپن سورس اپاچی 2.0 لائسنس کے تحت جاری کیا گیا ہے، جس کا مقصد ڈویلپرز اور صارفین کو مختلف AI ماڈلز اور ہارنسز کے ساتھ باہم مل کر کام کرنے کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ یہ پلیٹ فارم متعدد ماڈلز کے ساتھ یکساں طور پر مطابقت رکھتا ہے جس سے AI ایپلیکیشنز کی تیاری اور استعمال مزید آسان ہو جائے گا۔ برڈ کی سب سے اہم اور نمایاں خصوصیت اس کا 'لوکل فرسٹ' (Local-First) ڈیٹا ماڈل ہے۔ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ایکسین (Axen) نے وضاحت کی کہ یہ سسٹم صارف کی پرائیویسی اور ڈیٹا سیکیورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ روایتی کلاؤڈ پر مبنی سسٹمز کے برعکس، اس ٹول میں صارف کا ڈیٹا انہی کے اپنے ڈیوائس پر محفوظ رہتا ہے جس سے بیرونی رسائی یا ڈیٹا لیک ہونے کے خطرات انتہائی کم ہو جاتے ہیں۔ تکنیکی تفصیلات کے مطابق، صارفین اور ایجنٹ کے درمیان ہونے والی تمام گفتگو کی ہسٹری صارف کے اپنے ڈیوائس پر موجود مقامی 'گوز سیشن ڈیٹا بیس' (Goose session database) میں ذخیرہ کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، صارفین کے پاس ورڈز اور دیگر حساس پاس ورڈ کی معلومات (Credentials) بائی ڈیفالٹ اپریٹنگ سسٹم کے اپنے سیکیور 'کی چین' (Keychain) میں محفوظ کی جاتی ہیں، جو کہ جدید ترین سیکیورٹی معیار کی عکاسی کرتی ہے۔ اوپن سورس کمیونٹی کے لیے برڈ کی آمد کو ایک خوش آئند قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اپاچی 2.0 لائسنس کے تحت جاری ہونے کی وجہ سے ڈویلپرز نہ صرف اس کا سورس کوڈ دیکھ سکتے ہیں بلکہ اس میں اپنی ضرورت کے مطابق تبدیلیاں اور بہتری بھی لا سکتے ہیں۔ ڈیٹا پرائیویسی اور لوکل اسٹوریج کا یہ امتزاج مستقبل میں AI ایجنٹس کے محفوظ استعمال کے لیے ایک نیا معیار قائم کر سکتا ہے۔