LIVE
Loading Breaking News...

مصر دمیاط بندرگاہ ڈرون حملہ اور جہازوں میں آتشزدگی

News Image
مصر کے حکام کا کہنا ہے کہ دمیاط بندرگاہ پر کھڑے بحری جہازوں میں لگنے والی آگ کے پیچھے مبینہ طور پر ڈرون حملہ کارفرما تھا۔ اس واقعے نے نہ صرف خطے میں سکیورٹی خدات کو بڑھا دیا ہے بلکہ نہر سویز کے قریب بحری گزرگاہوں پر بھی نئے خطرات کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔
مصر نے باضابطہ طور پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ملک کی اہم دمیاط بندرگاہ پر دو بحری جہازوں میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے کے پیچھے ڈرون حملہ کارفرما تھا۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس واقعے نے مشرق وسطیٰ اور اس سے ملحقہ بحری گزرگاہوں پر سکیورٹی کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کیونکہ نہر سویز کے قریب اس نوعیت کا سکیورٹی خطرہ انتہائی تشویشناک سمجھا جا رہا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق حالیہ دنوں میں خطے کے اندر اس طرح کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو بین الاقوامی تجارت اور بحری سفر کے لیے چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔ اگرچہ اس حملے کے نتیجے میں ہونے والے جانی یا مالی نقصان کی حتمی تفصیلات تاحال مکمل طور پر سامنے نہیں آ سکیں، لیکن ابتدائی اطلاعات نے متعلقہ اداروں کو الرٹ کر دیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے ناخوشگوار واقعات کی روک تھام کے لیے حفاظتی اقدامات کو مزید موثر بنایا جا سکے۔ دوسری جانب دمیاط پورٹ اتھارٹی کی طرف سے جاری کردہ بیانات میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ بندرگاہ پر جہازوں کی عام آمدورفت فی الحال بلاتعطل جاری ہے اور تمام تنصیبات پوری طرح فعال انداز میں کام کر رہی ہیں۔ پورٹ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حالات مکمل طور پر قابو میں ہیں اور سکیورٹی فورسز نے صورتحال کا احاطہ کرتے ہوئے تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے تاکہ حملے کے محرکات اور ذمے داروں کا تعین کیا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے واقعات عالمی سپلائی چین اور میری ٹائم سکیورٹی کے لیے بڑے خطرات کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں، جس پر عالمی برادری اور علاقائی ممالک کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔