Business
بھارتی طلبا کا سرمایہ کاری بینکنگ اور کنسلٹنگ کی جانب بڑھتا ہوا رجحان
بھارتی جامعات کے ذہین طلبہ اب روایتی شعبوں کے بجائے سرمایہ کاری بینکنگ اور کنسلٹنگ جیسے ہائی پروفائل کیریئرز کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس رجحان کی وجہ سے دیگر اہم شعبوں میں ماہرین کی کمی کا خدشہ پیدا ہو رہا ہے۔
بھارت کی بڑی یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہونے والے ہونہار طلبہ اب کیریئر کے انتخاب میں ایک نئے رجحان کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق، کیمپس کے بہترین ٹیلنٹ کا بڑا حصہ اب مخصوص اور ہائی پروفائل شعبوں جیسے کہ انویسٹمنٹ بینکنگ، ایکویٹی ریسرچ، ٹریڈنگ، اور مینجمنٹ کنسلٹنگ کے گرد گھوم رہا ہے۔ ان شعبوں کو سماجی طور پر انتہائی پرکشش، منافع بخش اور نمایاں حیثیت کا حامل سمجھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے طلبا اپنی تمام تر صلاحیتیں ان مخصوص شعبوں میں داخلے کے لیے مرکوز کر رہے ہیں۔
اس رجحان کے پیچھے سب سے بڑی وجہ ان شعبوں میں ملنے والا بھاری معاوضہ اور کارپوریٹ دنیا میں ملنے والی شہرت ہے۔ طلبا کا ماننا ہے کہ کنسلٹنگ اور بینکنگ کے شعبے نہ صرف ان کے مالی مستقبل کو مستحکم کرتے ہیں بلکہ انہیں بین الاقوامی سطح پر نیٹ ورکنگ کے مواقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ تاہم، ماہرینِ معاشیات اور تعلیمی ماہرین اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب ملک کا بہترین دماغی سرمایہ صرف مالیاتی شعبوں تک محدود ہو جائے گا، تو سائنس، تحقیق، مینوفیکچرنگ، اور عوامی خدمات جیسے دیگر اہم شعبے ماہرین سے محروم ہو سکتے ہیں، جو طویل مدت میں ملکی ترقی کے لیے ایک چیلنج بن سکتا ہے۔
مزید برآں، یہ مقابلہ بازی اتنی شدید ہو چکی ہے کہ طلبہ اپنی تعلیم کے دوران ہی ان مخصوص صنعتوں کی ضروریات کے مطابق خود کو تیار کرنے لگتے ہیں۔ اس عمل میں، طلبہ روایتی اور تخلیقی شعبوں سے دور ہو رہے ہیں جہاں درحقیقت ملک کی بنیادی معاشی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ کارپوریٹ سیکٹر میں ملازمت کے حصول کے لیے کی جانے والی یہ دوڑ جہاں ایک طرف انفرادی کامیابی کی علامت ہے، وہیں دوسری طرف تعلیمی نظام کے اندر ایک عدم توازن کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ یونیورسٹیوں کو اب ضرورت ہے کہ وہ طلبہ کی کیریئر کونسلنگ کے دوران انہیں دیگر اہم شعبوں کے ثمرات سے بھی آگاہ کریں تاکہ انسانی وسائل کا متوازن تقسیم ممکن ہو سکے۔
حتمی تجزیے کے مطابق، اگر یہی رجحان برقرار رہا تو بھارت کے صنعتی اور تکنیکی شعبوں میں ٹیلنٹ کا خلا پیدا ہو سکتا ہے۔ حکومت اور تعلیمی اداروں کو مل کر ایسے پالیسی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جن سے طلبا کو دیگر شعبوں میں بھی اتنے ہی پرکشش مواقع اور مراعات فراہم کی جا سکیں تاکہ ملک کی ترقی کی رفتار برقرار رہے۔ مستقبل کا تقاضا ہے کہ نوجوان صرف ہائی پروفائل شعبوں کے بجائے ان میدانوں میں بھی قدم رکھیں جو حقیقی معنوں میں ملک کی معاشی اور سماجی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔