LIVE
Loading Breaking News...

شام میں اسرائیل اور ترکی کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا جائزہ

News Image
شام کے فضائی اڈے پر اسرائیلی حملے کے بعد ترکی اور اسرائیل کے درمیان سفارتی اور فوجی کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ عالمی طاقتوں نے اس واقعے کو خطے کے لیے ایک غیر ضروری کشیدگی قرار دیتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
شام کے ایک اہم فضائی اڈے پر اسرائیلی فضائی حملے کے بعد مشرق وسطیٰ کی دو بڑی فوجی قوتوں یعنی اسرائیل اور ترکی کے مابین جاری خاموش دشمنی اب کھل کر سامنے آگئی ہے۔ اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائی شام میں ترکی کی مبینہ فوجی تعیناتی کے منصوبوں کو روکنے کے لیے کی گئی تھی، جس کی وجہ سے خطے کی سیکیورٹی صورتحال اچانک انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔ انقرہ نے اس حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے اشتعال انگیزی قرار دیا ہے، جبکہ پاکستان سمیت کئی ممالک نے بھی اس واقعے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اس معاملے سے متعلق سامنے آنے والی خصوصی رپورٹس کے مطابق، حملے سے قبل مبینہ طور پر موساد کے سربراہ اور شامی وزیر خارجہ کے درمیان خفیہ ملاقاتیں ہوئی تھیں، جن میں ترکی کی جانب سے شام میں فوجی نقل و حرکت اور تعیناتی پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ اگرچہ اسرائیل نے باضابطہ طور پر حملے کی تصدیق کی ہے، تاہم ترکی اسے اپنی خود مختاری پر حملہ تصور کر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تنازعہ خطے میں پہلے سے موجود پراکسی وار کو ایک نئی اور خطرناک جہت دے سکتا ہے، جس کے اثرات صرف شام تک محدود نہیں رہیں گے۔ دوسری جانب، امریکہ نے بھی اس واقعے پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے اسے ایک غیر ضروری اور خطرناک کشیدگی قرار دیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اسرائیل اور ترکی کے درمیان یہ بڑھتی ہوئی تلخی نیٹو اور علاقائی سیکیورٹی اتحادوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔ اب عالمی برادری کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا دونوں ممالک اس بحران کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوشش کریں گے یا یہ کشیدگی مزید فوجی تصادم کی طرف بڑھے گی۔