LIVE
Loading Breaking News...

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں چار ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

News Image
مشرق وسطیٰ میں برقرار سیاسی اور عسکری ڈیڈ لاک کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز بھی استحکام اور اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ کے نتیجے میں آبنائے ہرمز سے تیل کی برآمدات کے حوالے سے خدشات برقرار ہیں جس سے خام تیل کی قیمتیں چار ہفتوں کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی ہیں۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے کیونکہ کاروباری برادری اور تاجر مشرق وسطیٰ میں جاری سیاسی و عسکری ڈیڈ لاک کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر خام تیل کی فراہمی میں رکاوٹ کے خدشات شدید ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے عالمی منڈی میں خام تیل کی فی بیرل قیمت میں دو ڈالر تک کا بڑا اضافہ ہوا ہے اور قیمتیں چار ہفتوں کی بلند ترین سطح کے قریب جا پہنچی ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تناؤ اور سفارتی ڈیڈ لاک نے تیل کی عالمی مارکیٹ کو گہری تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ خصوصاً آبنائے ہرمز سے تیل کی برآمدات میں طویل مدتی غیر یقینی صورتحال نے خریداروں اور تاجروں کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اہم بحری گزرگاہ سے تیل کی نقل و حمل متاثر ہونے کی صورت میں عالمی سطح پر انرجی کا شدید بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ اور امریکی ویسٹ ٹیکسٹاس انٹرمیڈیٹ دونوں کے برآمدی معاہدوں میں مثبت رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔ تجارتی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جب تک مشرق وسطیٰ کی صورتحال میں بہتری اور سفارتی حل کی سمت پیش رفت نہیں ہوتی، خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے امکانات انتہائی محدود ہیں۔ سپلائی کے خدشات نے کاروباری حلقوں کو اونچی قیمتوں پر تیل خریدنے پر مجبور کر دیا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے اس بحران کے اثرات نہ صرف عالمی توانائی مارکیٹ پر پڑ رہے ہیں بلکہ دنیا بھر میں خام تیل کی بڑھتی قیمتیں افراط زر کو بڑھانے کا سبب بن سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق توانائی کی بڑھتی قیمتیں عالمی معاشی نمو کو بھی سست کر سکتی ہیں جس کی وجہ سے مختلف ممالک کی معیشتوں پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خطرہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔