World
17 سالہ کیئرر کی کہانی: کم عمری میں بڑی ذمہ داریاں اور قربانیاں
کم عمری میں کسی بیمار یا معذور رشتہ دار کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سنبھالنے والے نوجوانوں کو شدید مشکلات اور محرومیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک 17 سالہ نوجوان نے اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے ان قربانیوں پر روشنی ڈالی ہے جو اسے روزمرہ زندگی اور تعلیم کی قیمت پر دینی پڑتی ہیں۔
دنیا بھر میں ہزاروں بچے اور نوجوان ایسے ہیں جو اپنی عمر کی پروا کیے بغیر اپنے خاندان کے بیمار، معذور یا معمر افراد کی دیکھ بھال کی بھاری ذمہ داری اٹھائے ہوئے ہیں۔ ایک 17 سالہ نوجوان نے حال ہی میں اپنے حالاتِ زندگی کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح اتنی چھوٹی عمر میں دیکھ بھال کرنے والے یعنی کیئرر کا کردار ادا کرنا اس کی ذاتی زندگی کو متاثر کر رہا ہے۔ نوجوان کا کہنا ہے کہ اگرچہ وہ بھی دیگر ہم عمروں کی طرح ایک عام اور بے فکر زندگی گزارنا چاہتا ہے، لیکن گھر کی ذمہ داریوں کی وجہ سے اسے اپنی خواہشات اور تعلیمی خوابوں کی قربانی دینی پڑتی ہے۔ سماجی ماہرین کے مطابق کم عمری میں اتنی بڑی ذمہ داری اٹھانے والے بچوں اور نوجوانوں کو دیگر افراد کے مقابلے میں مختلف ترقیاتی اور سماجی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کی روزمرہ زندگی کا بڑا حصہ دوائیں دینے، گھر کے کام کاج سنبھالنے اور بیمار فرد کی دیکھ بھال میں گزر جاتا ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے ان کے پاس تفریح، کھیل کود یا دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے کے مواقع نا ہونے کے برابر ہوتے ہیں، جس سے ان کے اندر تنہائی اور نفسیاتی دباؤ کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ تعلیمی میدان میں بھی یہ نوجوان اکثر پیچھے رہ جاتے ہیں کیونکہ دیکھ بھال کی مصروفیت کی وجہ سے وہ باقاعدگی سے اسکول یا کالج نہیں جا پاتے اور نہ ہی اپنی پڑھائی پر مکمل توجہ مرکوز کر سکتے ہیں۔ اس نوجوان کی آپ بیتی نے ایک بار پھر اس ضرورت کو اجاگر کیا ہے کہ حکومتوں اور سماجی تنظیموں کو ایسے نوجوانوں کے لیے خصوصی حفاظتی اور امدادی اقدامات کرنے چاہئیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان نوجوان کیئررز کو مناسب مالی، تعلیمی اور نفسیاتی سہولیات فراہم کی جائیں تو وہ اپنی خاندانی ذمہ داریاں نبھانے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین مستقبل بھی حاصل کر سکتے ہیں۔