World
امریکہ کا ایران پر معاشی دباؤ اور متحدہ عرب امارات کا کردار
متحدہ عرب امارات کی جانب سے ایران کے ساتھ تجارت معطل کرنے کے بعد تہران کا معاشی فرار کا راستہ بند ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس فیصلے سے خطے میں جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور ایرانی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔
واشنگٹن کی جانب سے ایران کی معیشت کو کمزور کرنے اور دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی اب ایک نئے موڑ پر پہنچ چکی ہے، جہاں اس کی کامیابی کا دارومدار بنیادی طور پر متحدہ عرب امارات بالخصوص دبئی کے اقدامات پر ہے۔ حالیہ دنوں میں اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ متحدہ عرب امارات نے ایران کے ساتھ تمام تجارتی تعلقات معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کی بڑی وجہ تہران کی جانب سے مبینہ طور پر بیلسٹک میزائل فائر کیے جانے کے الزامات ہیں، جس کے بعد یو اے ای نے یہ سخت سفارتی اور معاشی قدم اٹھایا ہے۔ دبئی طویل عرصے سے ایران کے لیے بین الاقوامی تجارت اور مالیاتی لین دین کا ایک اہم اور مرکزی راستہ سمجھا جاتا رہا ہے، جہاں سے ایرانی تاجر اور کمپنیاں عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کرتی تھیں۔ متحدہ عرب امارات کی طرف سے اس تجارتی پابندی اور مالیاتی ناکہ بندی کے بعد ایران کا یہ کلیدی معاشی فرار کا راستہ بھی اب بند ہوتا نظر آ رہا ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر یو اے ای اس پابندی پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے تو اس سے تہران حکومت کو اپنے مالیاتی ذخائر برقرار رکھنے اور غیر ملکی کرنسی حاصل کرنے میں انتہائی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی مہم میں دبئی کی اس پیش رفت کو ایک اہم سنگ میل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ معاشی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کشیدگی سے خطے میں نئے تجارتی اور سفارتی توازن جنم لے سکتے ہیں، کیونکہ ایران پہلے ہی بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ تہران حکومت اس تازہ ترین معاشی محاصرے سے نمٹنے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے، کیونکہ اس پورے تنازع کا حتمی نتیجہ دبئی کے ساتھ جڑے تجارتی روابط کے مستقبل پر ہی منحصر ہوگا۔