Politics
سوشل میڈیا اور سیاست دان: حد سے زیادہ یا کم سرگرمی کے خطرات
موجودہ دور میں سوشل میڈیا سیاست دانوں کی شہرت بنانے یا بگاڑنے میں اہم ترین کردار ادا کر رہا ہے۔ ایک واحد پیغام سیاسی کیریئر کو عروج پر پہنچا سکتا ہے یا اسے شدید نقصان پہنچا سکتا ہے، جس کے باعث سوشل میڈیا پر متوازن موجودگی قائم رکھنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
جدید دور میں سوشل میڈیا نے جہاں ابلاغ اور عوامی رابطوں کے تمام روایتی طریقوں کو بدل کر رکھ دیا ہے، وہیں یہ سیاست دانوں کے لیے ایک دو دھاری تلوار کی مانند ثابت ہو رہا ہے۔ ایک طرف سوشل میڈیا رہنماؤں کو براہ راست عوام سے جڑنے اور اپنا بیانیہ بلا تاخیر پہنچانے کا موقع فراہم کرتا ہے، تو دوسری طرف یہاں کا ایک غلط یا غیر محتاط بیان منٹوں میں ان کے پورے سیاسی کیریئر کو داؤ پر لگا سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سیاست دانوں کے لیے سوشل میڈیا پر حد سے زیادہ فعال ہونا یا پھر اس سے بالکل دور رہنا دونوں صورتیں شدید خطرات سے خالی نہیں ہیں۔
جب کوئی سیاست دان سوشل میڈیا پر ضرورت سے زیادہ متحرک ہوتا ہے اور ہر چھوٹے بڑے معاملے پر فوری ردعمل دیتا ہے، تو اس کے جذبات میں بہہ کر غلطی کرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر لمحوں میں پھیلا ہوا ایک غلط پیغام یا کسی تنازع پر غیر سنجیدہ تبصرہ نہ صرف عوامی ساکھ کو متاثر کرتا ہے بلکہ مخالفین کو تنقید کا بہترین موقع بھی فراہم کر دیتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ چند الفاظ کے ایک غیر محتاط پوسٹ کی وجہ سے دنیا بھر میں کئی سیاسی رہنماؤں کو شدید عوامی غصے اور قانونی و سیاسی بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری جانب اگر کوئی سیاست دان سوشل میڈیا سے بالکل کٹ کر رہتا ہے یا اسے نظر انداز کرتا ہے، تو موجودہ سیاسی منظرنامے میں وہ ایک بڑے عوامی طبقے، بالخصوص نوجوان نسل سے کٹ کر رہ جاتا ہے۔ آج کی دنیا میں جہاں اہم سیاسی اور قومی بیانیے سوشل میڈیا ہی پر تشکیل پاتے ہیں، وہاں کسی رہنما کا غیر فعال ہونا اسے عوام کے نظروں سے اوجھل کر سکتا ہے۔ سوشل میڈیا سے عدم موجودگی سے مخالفین کو یہ موقع مل جاتا ہے کہ وہ کسی بھی واقعے کا اپنا ورژن پیش کر دیں، جبکہ متعلقہ سیاست دان کے پاس بروقت دفاع کا کوئی موثر ذریعہ نہیں رہتا۔
اس لیے موجودہ دور میں سیاست دانوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج سوشل میڈیا پر ایک درست اور متوازن حکمت عملی اختیار کرنا ہے۔ ماہرینِ ابلاغیات کے مطابق سیاست دانوں کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا کو جذباتی ردعمل دینے کے بجائے ایک حکمت عملی اور تدبر پر مبنی ابلاغی آلے کے طور پر استعمال کریں۔ سوشل میڈیا پر موجودگی اتنی ہونی چاہیے کہ عوام سے رابطہ قائم رہے، لیکن اتنی غیر محتاط یا حد سے زیادہ بھی نہ ہو کہ وہ ان کے وقار اور سیاسی بقا کے لیے خطرہ بن جائے۔