World
ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے حامی ممالک کو اقتصادی پابندیوں کی دھمکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ جو بھی ملک ایران کی مدد کرے گا اسے انتہائی سنگین اقتصادی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اقتصادی جنگ کا اعلان کرتے ہوئے تہران کے حامیوں کو نشانہ بنانے کا عندیہ دیا ہے۔
امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف سخت گیر موقف اپناتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ جو بھی ملک ایران کی کسی بھی شکل میں مدد کرے گا، اسے شدید اقتصادی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ تہران پر دباؤ بڑھانے کے لیے اقتصادی جنگ کے حربے استعمال کیے جائیں گے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی طرف سے یہ دھمکی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ کی صورتحال انتہائی حساس اور غیر یقینی مدار میں داخل ہو چکی ہے۔ ایران پہلے ہی سخت ترین بین الاقوامی پابندیوں کی زد میں ہے، اور اس نئی وارننگ کے بعد تہران کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھنے والے ممالک کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران کے گرد اقتصادی گھیرا تنگ کرنے کی حکمت عملی کے تحت تہران کو تنہا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ اس کے تزویراتی عزائم کو روکا جا سکے۔ اس پالیسی کے نفاذ سے نہ صرف ایران بلکہ اس کے ساتھ بالواسطہ یا بلاواسطہ تجارت کرنے والے خطے اور دنیا کے دیگر ممالک کی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ ہے۔ عالمی منڈی اور سیاسی حلقوں میں اس بیان پر گہری تشویش پائی جا رہی ہے، کیونکہ اس قسم کے سخت اقدامات سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ موجود ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ بین الاقوامی برادری اور ایران کے حامی ممالک اس امریکی دھمکی کا کیا جواب دیتے ہیں اور اس سے عالمی معیشت اور سفارتی تعلقات پر کیا اثرات پڑتے ہیں۔