LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کا آئی سی سی کی صدر اور وکیل پر پابندیوں کا اعلان

News Image
امریکہ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت یعنی آئی سی سی کی صدر اور ایک ٹرائل وکیل پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ دوسری جانب عالمی فوجداری عدالت نے امریکی اقدام کو مسترد کرتے ہوئے اسے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
واشنگٹن: امریکہ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی صدر اور ایک ٹرائل وکیل کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ امریکی حکومت کے اس اقدام کو بین الاقوامی سطح پر ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے امریکہ اور عالمی عدالت کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت آئی سی سی کی قیادت اور عدالتی عملے کو براہ راست ہدف بنایا گیا ہے جس پر عالمی حلقوں میں گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، بین الاقوامی فوجداری عدالت نے امریکی پابندیوں کے اس فیصلے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ آئی سی سی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات عدالت کی خودمختاری اور غیر جانبدارانہ انصاف فراہم کرنے کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہیں۔ عدالت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنے فرائض کی انجام دہی سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور دباؤ کے باوجود انصاف کے تقاضے پورے کرتی رہے گی۔ اس معاملے میں جاپان کا کردار بھی اہم بن گیا ہے کیونکہ آئی سی سی کی صدر ٹوموکو اکانے کا تعلق جاپان سے ہے۔ جاپانی سفارتی حلقوں کے لیے یہ صورتحال ایک بڑا امتحان بن چکی ہے کہ وہ ایک طرف اپنے اہم اتحادی امریکہ اور دوسری طرف بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعلقات میں کیسے توازن قائم کرتے ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ پابندیاں بین الاقوامی انصاف کے نظام پر گہرے اثرات مرتب کریں گی اور آنے والے دنوں میں عالمی سطح پر سفارتی کشمکش میں تیزی آ سکتی ہے۔