LIVE
Loading Breaking News...

ایف آئی اے کی کارروائی: قائد اعظم انٹرنیشنل ہسپتال کا سی ای او گرفتار

News Image
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے اسلام آباد میں غیر قانونی طور پر گردے منتقل کرنے کے مقدمے میں اہم کارروائی کی ہے۔ اس اقدام کے تحت قائد اعظم انٹرنیشنل ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔
اسلام آباد: فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل نے غیر قانونی طور پر انسانی اعضاء خصوصی طور پر گردے کی پیوند کاری کے کیس میں بڑی پیش رفت کرتے ہوئے قائد اعظم انٹرنیشنل ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کو گرفتار کر لیا ہے۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق یہ گرفتاری ایک منظم نیٹ ورک کے خلاف کی جانے والی جامع تحقیقات کے نتیجے میں عمل میں آئی ہے جو ملک میں غیر قانونی طور پر انسانی اعضاء کی خرید و فروخت اور ان کی پیوند کاری میں ملوث تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم کے ہسپتال میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اور قانونی منظوری کے بغیر گردوں کے ٹرانسپلانٹ کے کئی آپریشن کیے جا رہے تھے۔ انسانی اعضاء کی پیوند کاری کی نگرانی کرنے والی اتھارٹی کی رپورٹس اور موصول ہونے والی خفیہ معلومات کی بنیاد پر ایف آئی اے نے چھاپہ مار کارروائی کی اور ہسپتال کے سربراہ کو حراست میں لے لیا۔ ابتدائی تفتیش کے دوران ہسپتال کے ریکارڈ اور متعلقہ دستاویزات کو بھی قبضے میں لے لیا گیا ہے تاکہ کیس کے تمام حقائق سامنے لائے جا سکیں۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق اس غیر قانونی کاروبار میں ملوث دیگر ڈاکٹرز، طبی عملے اور ایجنٹوں کا سراغ بھی لگایا جا رہا ہے جو سادہ لوح اور غریب افراد کو مالی لالچ دے کر ان کے اعضاء فروخت کرنے پر مجبور کرتے تھے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ انسانی اعضاء کے غیر قانونی کاروبار کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور اس گھناؤنے جرم میں ملوث تمام عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ گرفتار سی ای او سے مزید تفتیش کے لیے عدالت سے جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اس واقعے کے بعد دارالحکومت کے طبی حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے پیش آنے والے معاملات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ عوامی و سماجی حلقوں نے ایف آئی اے کی اس کارروائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تمام نجی ہسپتالوں میں اعضاء کی پیوند کاری کے طریقہ کار کی سخت نگرانی کی جائے تاکہ غریب اور مجبور لوگوں کے استحصال کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔