World
یوکرین میں پیدا ہونے والے روسی فوجی جنگی قیدیوں کے کیمپ میں
یوکرین میں پیدا ہونے والے وہ افراد جو روس کی جانب سے جنگ میں شریک ہوئے، اس وقت یوکرین میں جنگی قیدیوں کے کیمپ میں قید ہیں۔ ان افراد کا ماننا ہے کہ وہ اپنے وطن کا دفاع کر رہے تھے جبکہ ان پر غداری کے مقدمات چلائے جا رہے ہیں۔
یوکرین میں پیدا ہونے والے ایسے افراد جو روسی فوج کی صفوں میں شامل ہو کر یوکرین کے خلاف جنگ لڑتے رہے، اس وقت مغربی یوکرین میں واقع ایک جنگی قیدیوں کے کیمپ میں قید کاٹ رہے ہیں۔ اگرچہ یوکرین کے قوانین کے تحت ان پر غداری جیسے سنگین الزامات کے تحت مقدمات چلائے جا رہے ہیں، تاہم ان میں سے کئی قیدیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ حقیقت میں اپنے ہی وطن کا دفاع کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی بات چیت میں ان قیدیوں نے اپنے انوکھے خیالات اور جنگ میں شمولیت کی وجوہات پر کھل کر روشنی ڈالی ہے۔
ان قیدیوں کی اکثریت ایسے علاقوں سے تعلق رکھتی ہے جو تنازعہ کے آغاز سے ہی یا تو روسی اثر و رسوخ کے تحت تھے یا پھر طویل عرصے سے سیاسی و ثقافتی طور پر روس کے قریب سمجھے جاتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ حالات کے جبر اور ذاتی سیاسی نظریات کی بنیاد پر انہوں نے روسی فوج میں شمولیت کا فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق، وہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے طور پر درست سمت میں گامزن تھے، تاہم جنگ کی اس ہولناکی نے ان کی زندگیوں کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے اور اب انہیں قانون کی کٹہرے میں کھڑا کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب، یوکرین کی حکومت اور عدالتی نظام ایسے تمام افراد کو غدار قرار دیتا ہے جنہوں نے غیر ملکی جارحیت کے دوران دشمن کا ساتھ دیا۔ حکام کا ماننا ہے کہ جائے پیدائش کچھ بھی ہو، ملکی آئین اور سلامتی کے خلاف ہتھیار اٹھانے والے ہر شخص کو قانون کا سامنا کرنا ہوگا۔ ان مقدمات کو یوکرین کے اندر انتہائی حساس نگاہوں سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ یہ جنگ محض دو ممالک کے درمیان نہیں بلکہ نظریات اور شناخت کی سطح پر بھی لڑی جا رہی ہے۔
مغربی یوکرین کا یہ جنگی قیدیوں کا کیمپ اس وقت بین الاقوامی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے جہاں ایسے پیچیدہ انسانی اور قانونی سوالات جن جنم لیا ہے۔ ایک طرف ریاست کی بقا اور قانون کی بالادستی کا مسئلہ ہے تو دوسری طرف انفرادی مجبوریاں اور نظریاتی اختلافات ہیں۔ آنے والے دنوں میں ان قیدیوں کے خلاف مقدمات کا فیصلہ نہ صرف ان کی ذاتی زندگیوں پر اثر انداز ہوگا بلکہ اس کے وسیع تر قانونی اور سیاسی اثرات بھی مرتب ہوں گے۔