World
روس کے یوکرین پر میزائل حملے، تازہ ترین صورتحال اور ہلاکتیں
یوکرین کے دارالحکومت کیف سمیت مختلف علاقوں میں روسی بیلسٹک میزائلوں کے حملے کے نتیجے میں کم از کم چھ شہری ہلاک اور دو درجن سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ یوکرینی حکام نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔
جمعرات کی صبح یوکرین کے دارالحکومت کیف اور دیگر شہروں پر روس کی جانب سے کیے گئے شدید بیلسٹک میزائل حملوں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ مقامی حکام اور ہنگامی خدمات کے ترجمان کے مطابق ان حملوں میں اب تک کم از کم چھ شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ دو درجن سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ میزائلوں نے رہائشی علاقوں اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جس کے باعث شہر کے مختلف حصوں میں آگ لگ گئی اور امدادی ٹیموں کو پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
یوکرینی حکام نے ان حملوں کو شہری آبادی پر ایک منظم اور وحشیانہ کارروائی قرار دیا ہے۔ دارالحکومت کیف میں فضائی دفاعی نظام کو فعال کیا گیا تھا، تاہم روسی بیلسٹک میزائلوں کی رفتار اور تعداد کے باعث کئی مقامات پر میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔ شہر کے مختلف حصوں سے دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جس کے بعد شہری اپنے گھروں کو چھوڑ کر محفوظ مقامات اور بنکرز کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کیا جا رہا ہے۔
روسی وزارت دفاع کی جانب سے ابھی تک ان حملوں کے حوالے سے باضابطہ طور پر کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے، تاہم روس اکثر یوکرین کے دفاعی اہداف اور توانائی کے مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کرتا رہا ہے۔ دوسری جانب یوکرین نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روس کی جانب سے کیے جانے والے ان حملوں کی شدید مذمت کرے اور یوکرین کو مزید جدید فضائی دفاعی نظام فراہم کرے تاکہ شہریوں کی جانوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔ صورتحال کشیدہ ہے اور حکام کی جانب سے عوام کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
یہ حالیہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب محاذِ جنگ پر کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی ماہرین کا ماننا ہے کہ روس کی جانب سے اس طرح کے حملے یوکرین کے حوصلے پست کرنے اور بنیادی انفراسٹرکچر کو مفلوج کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ امدادی کارروائیوں کے مکمل ہونے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے، کیونکہ ملبے تلے مزید افراد کے دبے ہونے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔