World
اسرائیل سے شہریوں کا تاریخی انخلاء: ماہرین کی شدید تشویش
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سیاسی غیر یقینی اور سیکیورٹی خدشات کے باعث اسرائیل سے شہریوں کی بڑے پیمانے پر منتقلی جاری ہے۔ گزشتہ تین سال کے دوران تقریباً 2 لاکھ 70 ہزار اسرائیلی ملک چھوڑ کر بیرون ملک منتقل ہو چکے ہیں۔
اسرائیل میں حالیہ سیاسی ابتری اور سیکیورٹی کی ابتر صورتحال کے باعث شہریوں کے ملک چھوڑ کر جانے کا عمل ایک خطرناک حد تک پہنچ چکا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی شہریوں کے بیرون ملک منتقل ہونے کے اس عمل کو ایک 'ٹسونامی' قرار دیا جا سکتا ہے جو ملک کے مستقبل اور معاشی و سماجی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ اس صورتحال سے اسرائیل کی آبادیاتی ساخت اور ہنر مند افرادی قوت پر گہرے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ شائع ہونے والی رپورٹس اور ماہرین کے اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ تین سالوں کے عرصے کے دوران تقریباً 2 لاکھ 70 ہزار اسرائیلی شہری ملک چھوڑ کر دیگر ممالک میں آباد ہو چکے ہیں۔ ان افراد کا کہنا ہے کہ وہ مسلسل سیاسی غیر یقینی، حکومت کی متنازع پالیسیوں اور سیکیورٹی کے شدید خدشات کی وجہ سے اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں ناامید ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے انہوں نے دوسرے ممالک میں منتقل ہونے کو ترجیح دی۔ اس مسلسل انخلاء کے نتیجے میں اسرائیل کو مختلف اہم شعبوں خصوصاً انفارمیشن ٹیکنالوجی، طب، اور اعلیٰ تعلیم میں ماہر افراد کی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور باصلاحیت نوجوانوں کا اس بڑی تعداد میں ملک سے جانا ملکی معیشت کے لیے ایک سنگین دھچکا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق جب تک خطے میں پائیدار امن اور ملک کے اندر سیاسی استحکام قائم نہیں ہوتا، تب تک شہریوں کی بیرون ملک منتقلی کے اس سلسلے کو روکنا حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج رہے گا۔