LIVE
Loading Breaking News...

ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران پر نئی معاشی پابندیاں اور تجارتی شراکت داروں کو دھمکیاں

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی معیشت کو تباہ کرنے کے لیے سخت ترین اقتصادی پابندیوں اور تجارتی شراکت داروں کو نتائج بھگتنے کی دھمکی دی ہے۔ فوجی کارروائیوں کے بجائے اب مکمل معاشی دباؤ کو حکمت عملی کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جارحانہ پالیسی کا رخ بدلتے ہوئے اب براہ راست فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ انتہائی سخت اقتصادی دباؤ کو ترجیح دینا شروع کر دی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی معیشت کو مکمل طور پر مفلوج کرنے کے لیے اب تک کی سب سے بڑی اور سخت ترین پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ اس نئی حکمت عملی کے تحت امریکہ نے واضح کر دیا ہے کہ جو بھی ملک ایران کی معاشی معاونت کرے گا یا تہران کے ساتھ تجارتی تعلقات برقرار رکھے گا، اسے بھی سنگین ترین معاشی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ برطانوی نشریاتی اداروں اور دیگر عالمی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ دنیا کے کسی بھی ملک کو ایران کے ساتھ کاروبار کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ تہران پر دباؤ بڑھانے کے لیے اقتصادی پابندیوں کے ہتھیار کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا جائے گا تاکہ ایرانی حکومت کو اپنی پالیسیاں تبدیل کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ قدم اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ واشنگتن اب ایران کے خلاف طویل مدتی معاشی محاصرے کی تیاری کر رہا ہے جس سے خطے میں تجارتی اور سیاسی صورتحال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب ماہرین معاشیات کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف ایران کی معیشت کو شدید دھچکا پہنچے گا بلکہ عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی اور قیمتوں پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ ایران کے تجارتی شراکت دار ممالک اس صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں کیونکہ امریکی دھمکیوں کے بعد ان کے لیے تہران کے ساتھ معمول کے تجارتی تعلقات جاری رکھنا انتہائی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا امریکہ کی یہ نئی معاشی پابندیاں تہران حکومت کو جھکانے میں کامیاب ہوتی ہیں یا پھر عالمی معیشت پر اس کے منفی اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔