World
پاکستان اور ایران کے اعلی حکام کا علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال
پاکستانی آرمی چیف اور ایرانی وزیر خارجہ نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں خطے کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات اور سفارتی کوششوں کو مزید فروغ دینے پر زور دیا ہے۔
اسلام آباد اور تہران کے درمیان سفارتی اور عسکری سطح پر رابطوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے تحت پاکستان کے فوجی سربراہ اور ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے درمیان ایک اہم ٹیلی فونک گفتگو ہوئی۔ اس بات چیت کا بنیادی مقصد خطے میں جاری کشیدگی، بالخصوص امریکہ اور ایران کے مابین موجودہ تناؤ کے تناظر میں خطے کے امن و استحکام کا جائزہ لینا تھا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے کو کسی بھی نئی محاذ آرائی سے بچانے کے لیے سفارتی کوششوں کو تیز کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اس گفتگو کے دوران خطے کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ عسکری و سفارتی سطح پر ہونے والے اس رابطے میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان قریبی تعاون خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے انتہائی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور تمام ممکنہ شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے پر بھی زور دیا، تاکہ خطے کے عوام کو درپیش چیلنجز سے مؤثر انداز میں نبردآزما ہوا جا سکے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے پہلے ہی خطے کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے، اور ایسی صورتحال میں پاکستان کا ایران کے ساتھ اعلیٰ سطح پر رابطہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ مبصرین کے مطابق، پاکستان ہمیشہ سے خطے میں ثالثی اور امن کے قیام کے لیے مثبت کردار ادا کرتا رہا ہے اور اس حالیہ رابطے سے دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان رابطوں کا نیا دروازہ کھلا ہے۔ عسکری قیادت کا یہ اقدام خطے میں استحکام لانے اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔