World
وسطی افریقی جمہوریہ: سونے کی کان بیٹھنے سے 100 سے زائد اموات
وسطی افریقی جمہوریہ میں سونے کی کان میں تودہ گرنے کے خوفناک حادثے کے نتیجے میں سو سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس دلخراش واقعے کے بعد مختلف ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں نے گہرے دکھ اور یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
وسطی افریقی جمہوریہ میں سونے کی کان کنی کے ایک مقام پر پیش آنے والے المناک حادثے میں کم از کم ایک سو افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ کان کنی کے مقامی ذرائع اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ حادثہ مٹی کا تودہ گرنے یا زمین بیٹھ جانے کے باعث پیش آیا، جس نے وہاں کام کرنے والے مزدوروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس سانحے میں ہلاکتوں کی تعداد نے ایک بار پھر کان کنی کے شعبے میں حفاظتی انتظامات اور مزدوروں کے تحفظ کے حوالے سے شدید سوالات کو جنم دیا ہے۔
حکام کے مطابق حادثے کی اطلاع ملتے ہی امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں تاہم لاپتہ افراد کی تلاش اور ملبے تلے دبے مزدوروں کو نکالنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ علاقے میں سہولیات کی کمی اور رسائی کے مسائل کی وجہ سے امدادی کام سست روی کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس حادثے نے پورے خطے میں سوگ کی فضا پیدا کر دی ہے اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا سلسلہ جاری ہے۔
اس دلخراش واقعے پر بین الاقوامی سطح پر بھی گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا ہے۔ متحدہ عرب امارات سمیت مختلف دوست ممالک نے وسطی افریقی جمہوریہ کی حکومت اور عوام کے ساتھ گہری یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ افریقہ کے اس خطے میں غیر قانونی اور غیر معیاری کان کنی کے رجحان کی وجہ سے ایسے حادثات روز کا معمول بن چکے ہیں، جن پر قابو پانے کے لیے فوری اور سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔
حکومت اور متعلقہ اداروں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ کان کنی کے مقامات پر حفاظتی معیارات کو سختی سے نافذ کریں تاکہ مستقبل میں ایسے اندوہناک واقعات سے بچا جا سکے۔ اس وقت تمام تر توجہ متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشنز کو تیز کرنے اور لواحقین کو ہر ممکن امداد فراہم کرنے پر مرکوز ہے۔