LIVE
Loading Breaking News...

مکہ معاہدہ اور اسلامی نیٹو: ایم جے اکبر کا امریکہ سے وضاحت کا مطالبہ

News Image
بھارتی رہنما اور صحافی ایم جے اکبر نے سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے مکہ معاہدے پر امریکہ سے دوٹوک وضاحت طلب کی ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ معاہدہ کسی بڑے فوجی اتحاد یا نام نہاد اسلامی نیٹو کی شکل تو اختیار نہیں کر رہا۔
نئی دہلی اور واشنگتن کے سیاسی حلقوں میں اس وقت سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے مکہ معاہدے پر بحث اور چہ مگوئیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی پس منظر میں بھارتی رہنما اور نامور مصنف ایم جے اکبر نے ایک بیان میں امریکہ سے باضابطہ وضاحت کا مطالبہ کیا ہے کہ آیا یہ حالیہ معاہدہ کسی نام نہاد 'اسلامی نیٹو' کی تشکیل کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ان کا یہ بیان خطے میں بدلتے ہوئے تزویراتی اور جغرافیائی سیاسی منظرنامے کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس معاہدے نے خطے کے دیگر ممالک میں بھی تشویش کی لہر دوڑا دی ہے کہ آیا یہ کوئی نیا سکیورٹی ڈھانچہ ہے جو مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے روایتی اتحادوں کو تبدیل کر دے گا۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، مکہ معاہدے کے سامنے آنے کے بعد دنیا بھر کے مبصرین کی جانب سے مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ چند روز قبل امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس معاہدے کو سراہا تھا، جس کے بعد یہ سوالات شدت اختیار کر گئے ہیں کہ آیا یہ معاہدہ خطے میں روایتی امریکی سکیورٹی چھتری کا متبادل بن سکتا ہے۔ اسی نکتے کو اٹھاتے ہوئے ایم جے اکبر نے سوال کیا ہے کہ اس معاہدے کے محرکات کیا ہیں اور اس کے خطے کی مجموعی سلامتی پر طویل مدتی اثرات کیا ہوں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ واشنگتن انتظامیہ کو اس معاملے پر اپنا موقف واضح کرنا چاہیے تاکہ علاقائی طاقتوں کے خدشات کو دور کیا جا سکے۔ دوسری جانب، پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مابین اس تعاون کو اقتصادی، سفارتی اور دفاعی نوعیت کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ ان تینوںممالک کا اتحاد مشرق وسطیٰ اور ایشیا کے خطے میں ایک نئی طاقت کے ابھرنے کا عندیہ دیتا ہے۔ تاہم، اس بات پر بھی بحث جاری ہے کہ آیا یہ اتحاد کسی جارحانہ فوجی حکمت عملی کا حصہ ہے یا محض باہمی تعاون کا ایک پرامن فریم ورک ہے۔ اس پیچیدہ صورتحال میں بھارتی حلقوں بالخصوص دفاعی ماہرین کی طرف سے گہری نظر رکھی جا رہی ہے کہ یہ معاہدہ نئی دہلی کی سلامتی اور سفارتی پوزیشن کو کس حد تک متاثر کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں توقع کی جا رہی ہے کہ امریکہ اور دیگر عالمی طاقتیں اس معاہدے کے حوالے سے اپنے لائحہ عمل کو مزید واضح کریں گی۔ جیسے جیسے مکہ معاہدے کی تفصیلات سامنے آئیں گی، اس سے خطے کے سیاسی اور عسکری توازن میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔ تمام متعلقہ ممالک کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ معاہدہ واقعی ایک بڑے اسلامی دفاعی اتحاد کی بنیاد بنے گا یا یہ محض دو طرفہ و سہ طرفہ تعاون کے روایتی معاہدوں تک ہی محدود رہے گا۔