Technology
امریکی روبوٹ پابندی: چین کا سخت جوابی کارروائی کا انتباہ
امریکہ کے فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن (FCC) کی جانب سے چینی ہیومنارڈ روبوٹس کی درآمد پر پابندی کے بعد بیجنگ حکومت نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات کو شدید نقصان پہنچے گا اور وہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے جوابی اقدامات کرے گا۔
بیجنگ: امریکی انتظامیہ اور فیڈرل کمیونیکیشن کمیشن (FCC) کی جانب سے چینی ساختہ ہیومنارڈ روبوٹس کی درآمد پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان ٹیکنالوجی کے محاذ پر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ اس تازہ فیصلے کے تحت امریکہ میں نئی چینی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کو محفوظ بنانے کے نام پر چینی روبوٹس کے داخلے کو سختی سے محدود کر دیا گیا ہے، جس پر چینی وزارتِ خارجہ اور تجارتی حکام کی طرف سے انتہائی برہمی کا اظہار کیا گیا ہے۔
چینی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ کا یہ قدم بین الاقوامی تجارتی قوانین اور آزادانہ منڈی کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ بیجنگ کا مؤقف ہے کہ امریکہ قومی سلامتی اور سکیورٹی خدشات کو محض ایک بہانہ بنا کر چینی کمپنیوں کو بلاجواز نشانہ بنا رہا ہے تاکہ ٹیکنالوجی کے میدان میں چینی برتری کو روکا جا سکے۔ چینی ترجمان نے واضح کیا ہے کہ اس قسم کے یکطرفہ اقدامات سے نہ صرف دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو شدید نقصان پہنچے گا بلکہ عالمی سپلائی چین بھی بری طرح متاثر ہوگی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اس پابندی کا براہ راست اثر عالمی سٹاک مارکیٹ اور ٹیکنالوجی کے شعبے پر پڑ سکتا ہے، جہاں سرمایہ کار پہلے ہی سکیورٹی خدشات اور سیاسی تناؤ کے باعث محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ بیجنگ حکومت نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اپنے ملکی اداروں کے حقوق اور مفادات کا بھرپور دفاع کرے گی۔ چینی وزارتِ تجارت نے اشارہ دیا ہے کہ اگر امریکہ نے اپنے فیصلوں پر نظرثانی نہیں کی تو چین بھی روایتی اور تکنیکی محاذوں پر سخت جوابی اقدامات اٹھانے کا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے۔