LIVE
Loading Breaking News...

اسکول واپسی کے اخراجات: والدین کے لیے بڑھتا ہوا مالی دباؤ

News Image
نئے تعلیمی سال کے آغاز پر اسکول کے سامان اور یونیفارم کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے والدین پر شدید مالی بوجھ ڈال دیا ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں بچوں کی تعلیمی ضروریات کو پورا کرنا عام خاندانوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
نئے تعلیمی سال کا آغاز جہاں بچوں کے لیے خوشیوں اور نئی کتابوں کا پیغام لاتا ہے، وہیں یہ والدین کے لیے شدید مالی دباؤ اور پریشانی کا باعث بھی بنتا ہے۔ اسکول کھلنے کے سیزن کے دوران بچوں کے لیے یونیفارم، جوتے، اسٹیشنری اور کاپیاں کتابیں خریدنا عام آمدنی والے خاندانوں کے لیے ایک کڑا امتحان بن جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں تعلیمی سامان کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے والدین کی مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے، جس کی وجہ سے بجٹ پہلے ہیترتربت ہو جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسکول سیزن کے دوران صرف کتابوں اور کاپیوں کے نرخ ہی نہیں بلکہ اسکول کی فیسوں اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے، جو براہ راست گھریلو معیشت کو متاثر کرتا ہے۔ دوسری طرف، اس کاروباری سیزن سے ہول سیلرز اور مارکیٹ کے تاجر بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں کیونکہ طلب میں یکدم زبردست اضافہ ہو جاتا ہے۔ بازاروں میں اسٹیشنری اور اسکول کے لوازمات بیچنے والے دکانداروں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے باوجود والدین مجبوری کے تحت بچوں کے لیے ضروری اشیاء کی خریداری لازمی کرتے ہیں۔ اس دوران فوڈ سروسز اور ناشتے کے سامان کی مارکیٹ میں بھی تبدیلیاں دیکھنے میں آتی ہیں کیونکہ اسکول جانے والے بچوں کے لیے مختلف پیکنگ اور ویلیو آئٹمز کی مانگ بڑھ جاتی ہے۔ تاہم، بڑھتی ہوئی مجموعی مہنگائی اور ریکارڈ اخراجات کے اس دور میں عام گھرانوں کے لیے اپنے بچوں کو معیاری تعلیم دلانا اور اسکول کی تمام بنیادی ضروریات کو پورا کرنا ایک انتہائی کٹھن مرحلہ بن چکا ہے، جس کے لیے حکومتی سطح پر قیمتوں کے کنٹرول اور ریلیف کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔