World
ٹریول لاج کے چیف ایگزیکٹو سیکیورٹی مسائل پر مستعفی
برطانوی ہوٹل چین ٹریول لاج کے چیف ایگزیکٹو نے ہوٹل کے کمروں میں سیکیورٹی کے سنگین مسائل سامنے آنے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ قدم مارچ میں ایک خاتون کے ساتھ پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔
برطانیہ کی معروف ہوٹل چین ٹریول لاج (Travelodge) کے سربراہ نے ہوٹل کے کمروں میں سیکیورٹی کے سنگین مسائل سامنے آنے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے واقعے کے بعد سامنے آیا ہے جس نے ہوٹل کی سیکیورٹی کے نظام پر بڑے پیمانے پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے تھے۔ انتظامیہ کی جانب سے اس پیشرفت پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ رواں سال مارچ میں بی بی سی کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ میڈن ہیڈ میں واقع ایک ٹریول لاج ہوٹل میں ایک خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کا واقعہ پیش آیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق ایک نامعلوم شخص نے ہوٹل کے عملے کو دھوکہ دے کر اور جھوٹ بول کر متاثرہ خاتون کے کمرے کی چابی حاصل کی تھی، جس کے بعد اس نے کمرے میں داخل ہو کر گھناؤنا جرم کیا۔ اس سیکیورٹی خامی نے ملک بھر میں ہوٹلوں میں مہمانوں کے تحفظ کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی تھی۔
واقعے کے بعد عوامی دباؤ اور حکام کی جانب سے تحقیقات میں ہوٹل کے اندرونی حفاظتی پروٹوکولز میں بڑی خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔ ٹریول لاج بورڈ آف ڈائریکٹرز نے صورتحال کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا اور ایگزیکٹو سطح پر تبدیلیاں کی گئیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ مہمانوں کا تحفظ ان کی اولین ترجیح ہے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے حفاظتی انتظامات کو مزید سخت کیا جا رہا ہے۔
اس واقعے کے بعد سیاحت اور ہوٹل انڈسٹری سے وابستہ ماہرین نے بھی ہوٹلوں میں چیک ان کے طریقہ کار اور چابیوں کی فراہمی کے عمل پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ ٹریول لاج انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ متاثرہ خاندان کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں اور ملک بھر کے تمام ہوٹلوں میں عملے کی تربیت کے نئے پروگرام شروع کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی مہمان کو اس قسم کی پریشانی یا خطرے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔