Health
بچوں کے لیے ویپس کے خطرات: طبی ماہرین کی نئی رپورٹ جاری
رائل کالج آف پیڈیاٹرکس اینڈ چائلڈ ہیلتھ کی ایک نئی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بچوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان سگریٹ نوشی کی طرف پہلا قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ طبی ماہرین نے بچوں کی صحت پر اس کے تباہ کن اثرات کے پیشِ نظر فوری اقداماتن اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
رائل کالج آف پیڈیاٹرکس اینڈ چائلڈ ہیلتھ نے حال ہی میں ایک تشویشناک رپورٹ شائع کی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کم عمر بچوں میں ویپنگ یا ای سگریٹ کا استعمال صحت کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جدید رجحان بچوں کو نکوٹین کی لت میں مبتلا کرنے کا سبب بن رہا ہے، جس سے آنے والے وقتوں میں وہ روایتی سگریٹ نوشی کی طرف راغب ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ویپنگ کو عام طور پر کم نقصان دہ سمجھا جاتا ہے، لیکن کم عمر بچوں اور نو عمر افراد کے لیے اس کے اعصابی اور جسمانی اثرات انتہائی تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ ماہرین نے والدین اور اساتذہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ بچوں میں اس نئی عادت پر گہری نظر رکھیں کیونکہ یہ نادانستہ طور پر انہیں خطرناک بیماریوں کی طرف دھکیل رہی ہے۔ طبی دنیا میں اس حوالے سے پہلے ہی تشویش پائی جاتی تھی، لیکن تازہ ترین اعداد و شمار اور رپورٹس نے اس خطرے کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ ویپس میں استعمال ہونے والے مختلف کیمیکلز اور ذائقے بچوں کے نازک پھیپھڑوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، جس سے سانس کی بیماریاں اور دیگر دائمی امراض جنم لے سکتے ہیں۔ ڈاکٹرز اور پالیسی سازوں نے حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ویپس کی فروخت اور بچوں تک ان کی رسائی کو روکنے کے لیے سخت قوانین نافذ کریں۔ اسکولوں اور تعلیمی اداروں میں بھی اس حوالے سے آگاہی مہم چلانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے تاکہ نئی نسل کو اس موذی عادت سے محفوظ رکھا جا سکے اور صحت مند معاشرے کی تشکیل کی جا سکے۔