World
ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران پر سخت معاشی پابندیوں کا اعلان
امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور اس کا ساتھ دینے والے ممالک پر مزید سخت اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ پیشرفت ساٹھ دن کی سیز فائر کی مدت ختم ہونے اور تنازع کے حل کے لیے کوئی سفارتی پیش رفت نہ ہونے پر سامنے آئی ہے۔
واشنگٹن: امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ وہ ایران اور اس کی حامی حکومتوں کے خلاف انتہائی سخت معاشی اور اقتصادی اقدامات اٹھائیں گے۔ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور فریقین کے درمیان طے پانے والی ساٹھ دن کی جنگ بندی کی مدت بغیر کسی دیرپا حل کے اختتام پذیر ہو چکی ہے۔ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی دونوں اطراف سے کسی قسم کے سفارتی یا عسکری سمجھوتے کے آثار دکھائی نہیں دے رہے ہیں، جس سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ ان کی انتظامیہ تہران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہوگی۔ اس پالیسی کے تحت نہ صرف براہ راست ایران کو اقتصادی طور پر کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا بلکہ ان تمام ممالک اور اداروں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا جو بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر ایران کی معاشی معاونت کر رہے ہیں یا اس کے ساتھ تجارتی تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اعلان سے مشرق وسطیٰ کی معاشی اور سیاسی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
دوسری جانب، تہران کی قیادت نے بھی امریکی دھمکیوں پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے ہرگز نہیں جھکیں گے اور اپنی خودمختاری کا بھرپور دفاع کریں گے۔ خطے کے سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ سیز فائر کے خاتمے اور سفارتی راہیں بند ہونے کی وجہ سے صورتحال انتہائی تشویشناک موڑ پر پہنچ چکی ہے۔ عالمی برادری نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچایا جا سکے، تاہم زمینی حقائق اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ آنے والے مہینوں میں تناؤ میں مزید اضافہ متوقع ہے۔