LIVE
Loading Breaking News...

بنگلہ دیش صدارتی انتخاب 35 سال بعد، مرزا فخر الاسلام اور اولی احمد میں مقابلہ

News Image
بنگلہ دیش میں پینتیس سال کے طویل عرصے کے بعد پہلے بار صدارتی انتخاب کے لیے مقابلہ جاتی ووٹنگ کا آغاز ہو گیا ہے۔ اس اہم معرکے میں بی این پی کے مرزا فخر الاسلام عالمگیر اور جماعت اسلامی کے حلیف اولی احمد آمنے سامنے ہیں۔
ڈھاکہ: بنگلہ دیش کی تاریخ میں پینتیس سال کے طویل وقفے کے بعد پہلے مرتبہ ایک حقیقی مقابلے والے صدارتی انتخاب کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس نے ملک کے سیاسی منظر نامے میں ایک نئی ہلچل مچا دی ہے۔ اس اہم اور تاریخی انتخابی عمل میں ملک کی نمایاں سیاسی شخصیات کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے، جس پر اندرون و بیرون ملک گہری نظریں لگی ہوئی ہیں۔ سیاسی تجزیہ کار اس پیش رفت کو بنگلہ دیشی جمہوریت کے لیے ایک اہم موڑ قرار دے رہے ہیں کیونکہ اس سے قبل صدارتی انتخاب اکثر غیر مقابلہ جاتی یا رسمی نوعیت کے ہوتے تھے۔ اس انتخابی دوڑ میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے سینئر رہنما مرزا فخر الاسلام عالمگیر میدان میں ہیں۔ ان کا مقابلہ سابق فوجی افسر اور جماعت اسلامی کی قیادت والے گیارہ جماعتی اتحاد کے نامزد امیدوار اولی احمد کے ساتھ ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ معرکہ انتہائی دلچسپ اور کانٹے دار ہونے کی توقع کی جا رہی ہے، کیونکہ دونوں کے حامی اپنے اپنے امیدوار کی کامیابی کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں اور سیاسی ماحول کافی گرما گرم ہے۔ انتخابی عمل کے دوران سیکیورٹی کے بھی انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے اور ووٹرز کا اعتماد بحال رہے۔ ملک کے سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ یہ انتخابات بنگلہ دیش کے مستقبل کی سیاسی سمت متعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ عوام اور مبصرین اس بات کے منتظر ہیں کہ اس طویل جمود کے بعد ہونے والے اس پُرعزم انتخاب کے نتائج کیا برآمد ہوتے ہیں اور کون سی سیاسی قوت بالا دستی حاصل کرتی ہے۔